
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک امریکی یا اسرائیلی دباؤ میں آ کر ہرگز سرنڈر نہیں کرے گا اور کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں سنگین اور ناقابل تلافی نتائج ہوں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اسرائیل نے 14 جون سے ایران پر فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔
÷
سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ ایران کی قوم نہ اپنے شہدا کے خون کو بھولے گی اور نہ اپنی سرزمین پر حملے کو معاف کرے گی۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کو دھمکیوں سے زیر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن یا جنگ ایران پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔
خامنہ ای کے بیان کے علاوہ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے بھی زور دیا کہ دشمن فوجی حملے کے ذریعے ایران کی جوہری سرگرمیوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی جوہری تنصیبات محفوظ اور اچھی حالت میں ہیں۔
ایرانی فوج نے اسرائیل کے مزید دو حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ گورنر ورامین حسین عباسی کے مطابق تہران کے جنوب مشرق میں اسرائیلی ایف-35 لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا، جو رواں ہفتے مار گرایا گیا پانچواں طیارہ ہے۔ اس کے علاوہ، ایرانی فوج نے اصفہان کے علاقے میں اسرائیل کا ہرمس ڈرون بھی تباہ کیا، جس کی اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے۔
ادھر اسرائیلی فضائیہ نے کرمان شاہ ایئربیس پر ایرانی ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جنہیں بقول اسرائیل، اس کے طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
میدان میں کشیدگی اور بیانات میں شدت کے بعد خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔