اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

مودی نے مسئلہ کشمیر پر امریکی ثالثی ماننے سے انکار کر دیا

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کسی فریق کو ثالثی کی پیشکش قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک انداز میں بتایا ہے کہ انڈیا مسئلہ کشمیر پر کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کو نہ ماضی میں قبول کرتا رہا ہے، نہ حال میں کرے گا، اور نہ ہی آئندہ ایسا ممکن ہے۔ انڈین سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کے مطابق یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفون پر ہونے والی 35 منٹ طویل گفتگو کے دوران واضح کی گئی۔

وکرم مسری نے کہا کہ مودی نے ٹرمپ کو دوٹوک الفاظ میں کہا کہ انڈیا، پاکستان کے ساتھ مسائل پر کبھی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔

وکرم مسری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ سات سے دس مئی کے دوران انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری جھڑپیں دونوں ممالک کی افواج کے مابین براہِ راست رابطے سے ختم ہوئیں، اور یہ اقدام پاکستان کی جانب سے رابطے کی درخواست پر ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی صدر نے انڈین وزیراعظم کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کو سمجھا اور یکجہتی کا اظہار کیا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی امریکی ثالثی سے ممکن ہوئی ہے جب کہ پاکستانی فوج کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی انڈین فوج کی کال پر ان کے جواب کے بعد ہوئی۔

اپریل میں پہلگام حملے کے بعد، سات سے دس مئی تک دونوں ممالک میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکش کر سکتے ہیں لیکن وہ کسی فریق کو اسے قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ ثالثی کی پیشکش قبول کرنا متعلقہ ملک کی صوابدید پر ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر پر انڈیا کا دیرینہ مؤقف ہے کہ یہ ایک دوطرفہ مسئلہ ہے اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button