
ججزٹرانسفرکیس، سپریم کورٹ نے جسٹس سرفراز ڈوگرکا تبادلہ قانونی قراردے دیا
جسٹس سردارسرفرازڈوگرقائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد کے طورپرکام کرتےرہیں گے،عدالتی فیصلہ
سپریم کورٹ نے ججزٹرانسفرکیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ اکثریتی فیصلے میں عدالت نے قراردیا کہ جسٹس سردارسرفرازڈوگرکا ٹرانسفرآئین وقانون کے مطابق ہے۔ عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تینوں ججزکا ٹرانسفردرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ججزٹرانسفرکونئی تقرری نہیں قراردیا جاسکتا۔ عدالت نے ججز کی سنیارٹی کا معاملہ صدر پاکستان کوواپس ریمانڈ کردیا۔
اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججزکے تبادلے کے نوٹیفکیشن کوکالعدم قرارنہیں دے رہے۔ صدر مملکت سنیارٹی کے معاملے کوجتنی جلد ممکن ہوطےکریں۔ جب تک صدر مملکت سنیارٹی طے نہیں کرتے، قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر ہی امور سرانجام دیتے رہیں گے۔
اکثریتی فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس بلال شاہد بلال حسن اور جسٹس صلاح الدین پنہور نے دیا جب کہ جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد نے اکثریت سے اختلاف کیا۔
واضح رہے کہ صدر مملکت کی جانب سے دیگر ہائی کورٹس سے ججز کا اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلہ کیے جانے کے بعد عدالت عالیہ کے 5 ججز نے سنیارٹی کے معاملے پر رواں سال 20 فروری کو سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے سینئر وکلا منیر اے ملک اور بیرسٹر صلاح الدین کے توسط سے آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت دائر 49 صفحات پر مشتمل درخواست میں استدعا کی تھی کہ سپریم کورٹ قرار دے کہ صدر کو آرٹیکل 200 کی شق ایک کے تحت ججز کے تبادلے کے لامحدود اختیارات حاصل نہیں ہیں،مفاد عامہ کے بغیر ججز کو ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا۔