اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

ایران اسرائیل جنگ جاری، امریکا کا تہران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

چھٹے روز بھی فریقین میں حملے جاری ہیں جن میں ایران میں 240 اور اسرائیل میں 24 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی چھٹے روز میں داخل ہو چکی ہے، جب کہ امریکا نے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایرانی اہداف پر اسرائیلی حملوں اور تل ابیب پر ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اب تک 240 ایرانی اور 24 اسرائیلی جان سے جا چکے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ایران کی قیادت غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے، ہماری صبر کی حد ختم ہو رہی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے فون پر بات چیت بھی کی اور مختلف آپشنز پر غور کا عندیہ دیا، جن میں ایرانی جوہری تنصیبات پر مشترکہ حملے بھی شامل ہیں۔

ادھر، امریکی محکمہ دفاع نے طیاروں کی خطے میں تعیناتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی دفاعی نوعیت کی ہے، تاکہ ایران یا اس کے اتحادیوں کے ممکنہ جوابی حملوں سے امریکی افواج کو محفوظ رکھا جا سکے۔

ایک طرف جہاں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایرانی پلانٹ کو تباہ کیے بغیر حملے نہیں رکیں گے تو دوسری جانب ایران نے بھی دفاعی جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور دہشت گرد صہیونی ریاست کو سخت جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے جنگ کے تمام اختیارات پاسدارانِ انقلاب کو منتقل کر دیے ہیں۔

ایرانی سفیر برائے اقوام متحدہ علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران اپنے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا، ہم سخت اور غیر محدود ردعمل دیں گے۔

ادھر، اسرائیلی فضائیہ نے تہران کے مشرق میں واقع اہم میزائل کمپلیکس اور پاسدارانِ انقلاب سے منسلک جامعہ پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، ابھی تک جوہری تنصیبات محفوظ ہیں۔

اسرائیل نے بیرون ملک پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کی واپسی کا بھی آغاز کر دیا ہے، جب کہ چینی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ 700 سے زائد چینی شہریوں کو ایران سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button