
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا، جہاں مختلف ممالک نے اسرائیلی جارحیت پر تشویش اور کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا۔
اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے اسرائیل کے حالیہ حملوں کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ نطنز جیسی حساس جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا عالمی ایٹمی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیلی حملے میں 78 ایرانی شہری جان سے گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جبکہ کئی سینیئر فوجی اور جوہری سائنسدان ہلاک ہوئے۔
ایرانی مندوب نے پاکستان، چین، روس اور الجزائر کا اجلاس بلوانے اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت پر شکریہ ادا کیا۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ اسرائیل مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دفاع کا حق حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی فریقین پر کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب کچھ روکا جائے اور امن و سفارتکاری کو موقع دیا جائے۔
چین کے نمائندے فو کانگ نے اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے خطرناک فوجی اقدامات فوری بند کیے جائیں کیونکہ یہ علاقائی سالمیت اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ادھر روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران اور اسرائیل دونوں کے رہنماؤں سے رابطہ کرکے جنگ بندی کی ثالثی کی پیشکش کی اور زور دیا کہ ایران کے جوہری معاملے کو صرف سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
عالمی رہنماؤں نے مجموعی طور پر کشیدگی کے خاتمے اور امن کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔