
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط اور مالیاتی دباؤ کے تحت حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ میں واضح کٹوتیاں کر دی ہیں۔
سالانہ پلاننگ کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) نے 4 ہزار 83 ارب روپے مالیت کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی، جس میں صوبوں کا حصہ پنجاب کے 1188 ارب، سندھ کے 888 ارب، خیبرپختونخوا کے 440 ارب اور بلوچستان کے 280 ارب روپے پر مشتمل ہے۔ وفاقی حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ کے لیے 880 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو رواں سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 1100 ارب کے مقابلے میں 20 فیصد اور اصل بجٹ 1400 ارب کے مقابلے میں 37 فیصد کم ہے۔ تاہم حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے حاصل کردہ 120 ارب روپے سمیت ہدف ایک ہزار ارب روپے رکھا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس میں واضح کیا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی حدود کا سامنا ہے، اس لیے نئی ترقیاتی سکیموں کی منظوری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اب توجہ قومی سطح کے بڑے اور غیر ملکی امدادی منصوبوں پر مرکوز کی جائے گی تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
حکومت نے پارلیمنٹرینز کی اسکیموں کے لیے 50 ارب روپے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے ہیں، جب کہ ٹرانسپورٹ و مواصلات کے شعبے کے لیے فنڈز بڑھا کر 332 ارب روپے کیے گئے ہیں۔ دیگر شعبوں میں واضح کمی دیکھی گئی، جیسے توانائی کے لیے رقم 169 ارب سے کم ہو کر 144 ارب، پانی کے لیے 135 ارب سے 109 ارب، سماجی شعبے کے لیے 200 ارب سے کم ہو کر 150 ارب روپے کر دی گئی۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے رقم 75 ارب سے گھٹا کر 63 ارب کر دی گئی۔
اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی، گورننس، پیداواری شعبے اور زرعی منصوبوں میں بھی بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ زرعی شعبے کی مختص رقم محض 3 ارب روپے رہ گئی ہے، جو پچھلے سال 8 ارب تھی۔
احسن اقبال کے مطابق حکومت نے کم ترجیحی منصوبوں کی نشاندہی کر لی ہے جنہیں ملتوی یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے 118 منصوبے ایک ہزار ارب روپے مالیت کے ہیں، جن پر عمل روک کر وسائل بچانے کا ارادہ ہے۔
حکومت کا طویل مدتی ہدف پاکستان کو 2035 تک ایک ہزار ارب ڈالر اور 2047 تک تین ہزار ارب ڈالر کی معیشت بنانا ہے، تاہم موجودہ مالی صورتحال میں یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور وسائل کی ازسرنو تقسیم کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔