
میکسیکو میں اس اتوار ایک غیرمعمولی ووٹنگ ہونے جارہی ہے جس میں شہری پہلی بار سپریم کورٹ کے نو ججز سے لے کر مقامی عدالتوں کے سیکڑوں ججز اور مجسٹریٹس تک، کل 2,600 سے زائد عدالتی مناصب پر براہِ راست ووٹ ڈالیں گے۔
یہ تاریخی اقدام سابق صدر آندریس مینوئل لوپیز اوبراڈور کی تجویز کردہ آئینی ترمیم کے بعد ممکن ہوا، جسے موجودہ صدر کلاڈیا شینبام کی حکومت نے نافذ کیا۔
اصلاحات کا مقصد بدعنوانی اور سزا سے استثنیٰ کا خاتمہ بتایاجارہا ہے، لیکن ناقدین اسے عدلیہ کی خودمختاری پر ممکنہ حملہ اور سیاسی اثر رسوخ کا راستہ قرار دے رہے ہیں۔
نئے قانون کے تحت عدالتی امیدوار کسی سیاسی جماعت کی مالی مدد نہیں لے سکتے اور نہ ہی سرکاری یا نجی فنڈنگ استعمال کرسکتے ہیں۔ انہیں اپنا تعارف سوشل میڈیا اور عوامی مباحثوں کے ذریعے کرانا ہوگا، جب کہ لازمی شرائط میں قانون کی ڈگری، متعلقہ تجربہ، اچھی شہرت اور مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے امیدواروں کا آن لائن ڈیٹا بیس جاری کیا ہے، تاہم حالیہ سروے کے مطابق صرف 23 فیصد ووٹرز کسی امیدوار کو نام سے جانتے ہیں، جس سے اندھے ووٹ اور کم ٹرن آؤٹ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ براہِ راست انتخاب ججز کو عوام کے سامنے جوابدہ بنائے گا اور اشرافیہ یا منشیات کارٹیلز کے دباؤ سے نکالے گا۔
مخالفین خبردار کرتے ہیں کہ امیدواروں کی خود مالی امداد کی شرط امیر طبقے یا بدنام گروہوں کی دخل اندازی آسان بنا سکتی ہے، خاص طور پر اُن ریاستوں میں جہاں کارٹیل تشدد کے ذریعے انتخابات پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔
انتخابی نتائج کاغذی بیلٹوں کی دستی گنتی کے بعد 15 جون تک مکمل ہوں گے۔
مبصرین اس تجربے کو ایک بڑے جمہوری انقلاب اور ممکنہ جوئے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
میکسیکو میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل تاریخ ہے، کیا ان انتخابات کے بعد انصاف کی فراہمی ممکن ہو پائے گی یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔