اوورسیزتازہ ترین

بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس کی مستعفیٰ ہونے کی دھمکی

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ڈھاکا میں مظاہروں کے بعد ملک میں سیاسی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش کے عبوری وزیر اعظم اور نوبل امن انعام یافتہ پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں انہیں مکمل حمایت نہیں دیں گی تو وہ عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں، جیسا کہ ان کے قریبی سیاسی ساتھی اور ان کے دفتر کے ذرائع نے بتایا۔

تقریباً 17 کروڑ آبادی والے جنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش میں اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں بغاوت کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ملک چھوڑنا پڑا۔

اس ہفتے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور حریف سیاسی جماعتیں دارالحکومت ڈھاکا کی سڑکوں پر بڑے احتجاجی مظاہرے کر رہی ہیں، جن میں متضاد مطالبات پیش کیے جا رہے ہیں۔

محمد یونس، جو 84 سال کے ہیں اور نوبل امن انعام یافتہ بھی ہیں، عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے انتخابات تک ملک کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ ان کے دفتر کے ایک معتبر ذریعے کے مطابق، انہوں نے کابینہ کو بتایا کہ اگر سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ عہدہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ استعفیٰ دینا چاہتے تھے مگر کابینہ کے ارکان نے انہیں قائل کیا کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔

نیشنل سٹیزن پارٹی کے رہنما ناہید اسلام، جو بغاوت کی قیادت کرنے والے طلبہ میں شامل تھے، نے جمعرات کی شام محمد یونس سے ملاقات کی اور ذمہ داری جاری رکھنے کی ترغیب دی ہے۔

دوسری طرف، ملک کی بڑی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے محمد یونس پر زور دیا ہے کہ وہ بحران کے حل کے لیے ایک آل پارٹی اجلاس بلائیں۔

محمد یونس کی استعفیٰ کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ہزاروں کارکنوں نے پہلی بار عبوری حکومت کے خلاف ڈھاکا میں بڑی احتجاجی ریلی نکالی۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button