61

لاہور کے دروازے اور حقیقت

لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں لاہور شہر ایک فصیل کے اندر محدود تھا جس کے بارہ دروازے تھے۔ شام کو یہ دروازے بسلسلہ شہری حفاظت بند کر دیے جاتے تاکہ دُشمنوں یا حملہ آوروں سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

پنجاب کا دارالحکومت! دریائے راوی کے مشرقی کنارے پر واقع پاکستان کا دوسرا بڑا شہر۔شہر لاہور نے مغل دورِحکومت میں تعلیمی وثقافتی مرکز ہونے کی حیثیت اختیار کی۔ تاریخی اعتبار سے یہ شہر اپنی ایک خاص اہمیت رکھتا ہے۔

لاہور کی ابتدائی تاریخ ہندوئوں کی مختلف روایات اور داستانوں پر مشتمل ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس کی بنیاد رامیانہ (Ramayana) کی رزمیہ نظموں کے مشہور ہیرو رام چندر کے دو لڑکوں میں سے ایک کے نام (لوہ) سے لاہور پڑا۔

کشمیر اور راجپوتانہ کی قدیم تاریخی کتب میں یہ ہندوئوں کی ریاست تھا۔ ایک اور روایت کے مطابق اسے مغربی ہندوستان سے آنے والے راجپوت شہزادوں نے آباد کیا۔

سلطان محمود غزنوی کے لاہور فتح کرنے سے قبل یہ بدستور ہندوئوں کے قبضے میں تھا۔ مشہور چینی سیاح ہیونگ سانگ، جس نے 630ء میں پنجاب کی سیاحت کی، نے بھی اپنے سفرنامے میں لاہور کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ مسلم مؤرخین میں سے الادریس نے نویں صدی عیسوی میں لکھی گئی اپنی کتاب حتی المشتاق فی افتخار المشتاق‘‘ میں اسے لہاور‘‘ (Lahawar) لکھا ہے۔

ابوریحان البیرونی نے اپنی کتاب قانون میں اسے لوہارو‘‘ (Loharo) لکھا ہے۔ البیرونی نے یہ کتاب محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کے وقت تحریر کی۔ بطلیموس کے مطابق اس شہر کی بنیاد پہلی صدی عیسوی میں پڑی۔ اس کی اہمیت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب محمود غزنوی نے 1002ء میں ہندوستان کا رُخ کیا۔
گیارہویں اور بارہویں صدیوں کے بیشتر حصے میں لاہور محمود غزنویؒ کی دریائے سندھ کے شمال واے مقبوضات کا دارالحکومت رہا۔ محمود غزنویؒ کے بعد 1208ء تا 1450ء غوریوں، خلجیوں، تغلوں، سیّدوں اور لودھیوں کے قبضے میں رہا۔

1524ء میں بابر نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ مغلوں کا دور سولہویں سترہویں صدی عیسوی میں عروج پر رہا اور کچھ عرصہ تک پایۂ تخت بھی رہا۔ 1773ء میں لہنہ سنگھ لاہور پر قابض ہو گیا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد میں لاہور سکھوں کا زبردست گڑھ رہا۔

1848ء میں سکھوں کا اقتدار بھی ختم ہو گیا اور انگریزوں نے اس شہر پر قبضہ کر لیا۔ لاہور نے اُس وقت مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل کر لی جب 1940ء میں یہاں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔

1947ء میں قیامِ پاکستان پر پاکستان کے حصے میں آیا اور اس وقت سے لے کر اب تک لاہور کو پاکستان کے ثقافتی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔ حضرت سیّدنا علی ہجویریؒ، حضرت پیر مکیؒ، حضرت میاں میرؒ، حضرت مادھو لال حسینؒ، حضرت شاہ محمد غوثؒ کے علاوہ متعدد بلند پایہ اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کے مزارات بھی یہیں مرجع خلائق ہیں۔

لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔ زمانۂ قدیم میں لاہور شہر ایک فصیل کے اندر محدود تھا جس کے بارہ دروازے تھے۔ شام کو یہ دروازے بسلسلہ شہری حفاظت بند کر دیے جاتے تاکہ دُشمنوں یا حملہ آوروں سے شہریوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔

تاریخ نے ان کے نام اور ان کی وجہ تسمیہ کچھ یوں بیان کی کہ جب مسلمانوں کا زمانہ آیا اور مسلمان بادشاہوں نے غربی ممالک میں قوت حاصل کی تو انہوں نے پنجاب (ہندوستان) کا رُخ کیا۔ جب سلطان محمود غزنوی نے پنجاب پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ جے پال برہمن پنجاب کا فرمانروا تھا، جسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس سے قبل شہر کی کھلی آبادی تھی اور فصیل شہر پناہ نہ تھی۔ اکبر بادشاہ نے اس کے گرد پختہ حصار بنوایا۔ فصیل کی دیوار بہت بلند اور چوڑی تعمیر کی گئی۔ ایک ایک دروازے کے درمیان دس دس بُرج کلاں بنوائے۔

یہ فصیل سکھوں کے دورِحکومت تک قائم رہی۔ انگریزوں کے عہد میں اس قدر بلند فصیل فضول اور بے معنی خیال کرتے ہوئے پہلے بقدر نصف کے گرائی گئی، اس کے بعد باقی فصیل گرانے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک مختصر اور چھوٹی دیوار قائم کر دی گئی جو آج تک موجود ہے۔ اس شہر کے بارہ دروازے اور ایک چھوٹا دروازہ ہے جسے موچی دروازہ کہتے ہیں۔

دہلی دروازہ

یہ دروازہ مشرق کی جانب چونکہ دہلی کی طرف ہے، اس لیے اس کو دہلی دروازہ کہتے ہیں۔ لاہور کے نامی دروازوں میں سے یہ دروازہ ہے اور آمدورفت بھی اس کی بکثرت ہے کیونکہ اسی دروازے کی طرف لاہور ریلوے سٹیشن بنایا گیا ہے اور اسی دروازے کی سمت بڑے بڑے شہر امرتسر اور جالندھر وغیرہ ہیں۔ ریل میں سفر کرنے والے مسافر اور تاجر سب اسی دروازے سے اندر باہر آتے جاتے ہیں۔ اسی دروازے کے اندر سے سیدھی سڑک قلعے کو جاتی ہے۔ مسجد وزیرخان جو باعثِ اقتدار شہر ہے، اسی دروازے کے اندر ہے۔ سرائے وزیرخان اور حمام وزیرخان جو مسجد کے اوقاف میں شمار ہوتا ہے، اسی دروازے کے پاس ہے۔ پرانی عمارت اکبری انگریزوں کے عہد تک موجود تھی مگر نہایت بوسیدہ اور خراب حالت میں، دروازہ بھی تقریباً زمین دوز ہو چکا تھا، یہاں تک کہ ہاتھی کا مع عماری گزرنا بھی محال تھا جس کے باعث انگریزوں نے اس دروازے کو گرا دیا اور اس کی جگہ دو منزلہ دروازہ بنوایا گیا جسے محمد سلطان نامی ٹھیکیدار نے تعمیر کیا۔ دروازے کے دونوں طرف دو دو منزلہ عالی شان عمارتیں بنوائیں اور ان کے درمیان دروازہ تعمیر کیا گیا۔ نیچے کے دو طرفہ مکانات میں پولیس کے سپاہی رہتے تھے اور اُوپر کی منزل میں ایک طرف تو آنریری مجسٹریٹ ومیونسپل کمیٹی کے ممبران کے بیٹھنے کی جگہ بنائی گئی، جس میں کچہری لگتی تھی تو دوسری طرف پولیس کے افسران رہائش پذیر تھے جن کی تعیناتی دروازے کی حفاظت کے لیے ہوتی تھی۔

اکبری دروازہ

اس دروازے کو بادشاہِ وقت محمد جلال الدین اکبر نے اپنے نام سے موسوم کیا اور ہر قسم کے غلے کی منڈی اس دروازے کے اندر مقرر کر کے اس کو بھی اکبری منڈی کے نام سے منسوب کیا، لہٰذا آج تک دروازہ اور منڈی دونوں اکبر کے نام سے موسوم ہیں۔ یہ دروازہ بھی نہایت خستہ وبوسیدہ ہو چکا تھا جسے انگریزوں نے قدیمی طرز پر ازسرنو تعمیر کروایا۔

موتی دروازہ

المعروف موچی دروازہ۔ یہ دروازہ صوبیدار موتی رام کے نام سے منسوب ہے جو اکبر بادشاہ کے قریبی وبااعتماد ساتھیوں میں سے تھا۔ صوبیدار موتی رام تمام عمر اس دروازے کی حفاظت پر مامور رہا، لہٰذا مدت العمر کی ملازمت کے سبب سے اس دروازے نے بھی موتی کے ساتھ اپنی پوری نسبت پیدا کر لی اور ہمیشہ کے لیے موتی بن گیا۔ سکھوں کے عہد میں موتی کی بچائے موچی پکارا جانے لگا اور پھر موچی دروازے کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اس دروازے کے مشرقی دالان میں زمانۂ سلف کی ایک چھوٹی سی پختہ قبر بنی ہوئی ہے۔ مشہور ہے کہ یہاں کسی شہید کا سر دفن ہے۔ انگریزوں کے دور میں یہ دروازہ گرا دیا گیا تھا جسے بعد میں تعمیر نہیں کیا گیا۔ دروازے کے ساتھ لاہور کی وہ تاریخی جلسہ گاہ بھی ہے جسے پاکستان کا ہائیڈپارک‘‘ بھی کہتے ہیں، کیونکہ لاہور میں جنم لینے والی تمام تحریکوں اور جلسوں کی ابتدا یہیں سے ہوئی۔ موچی دروازے کے اندر میٹھی گولیاں اور ٹافی بازار بھی ہے، دروازے کے دونوں جانب مساجد ہیں لیکن دروازے کی عمارت موجود ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں