اوورسیز

اپنی طاقت سے دشمن پرہیبت طاری کرتے رہیں، ایرانی سپریم لیڈرکا قوم کے نام پیغام

امریکا اسرائیلی جارحیت روکنا نہیں چاہتا تو کم ازکم ایک طرف کھڑا رہے، ایران

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ خوف سے باہرنکل نکلیں اوراپنی طاقت سے دشمن پر ہیبت طاری کرتے رہیں۔

ایکس پر اپنے ایک بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ ’میری قوم کے لوگوں اگر آپ تھوڑا سا بھی خوف کا شکار ہوئے تو دشمن آپ کو مزید ڈرائے گا اورآپ کو نہیں چھوڑے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ’اب تک آپ نے دشمن کے خلاف اپنے اتحاد سے جو خوف طاری کرنے والا رویہ اپنایا ہے اُسے بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رکھیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے سورۃ انفال کی آیت کا ترجمہ بھی شیئر کیا ’فتح صرف اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔، ایکس پر پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا کہ ’اللہ بہت رحیم ہے اور وہ ایران کو بڑی فتح سے نوازے گا کیونکہ ہم سچے اور حق پر کھڑے ہیں۔،

اس حوالے سے ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب ٓبادی کا بھی اہم بیان سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت میں مداخلت کرنا چاہتا ہے تو ایران کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ جارحیت پسندوں کو سبق سکھانے اور اپنے دفاع کے لیے اپنی طاقت استعمال کرے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکا کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ اگر وہ اسرائیل کی جارحیت روکنا نہیں چاہتا تو کم از کم ایک طرف کھڑا رہے،ایران کے فوجی فیصلہ سازوں کے پاس تمام ضروری آپشنزموجود ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی جاری ہے، گزشتہ شب تہران کی جانب سے تل ابیب اور حیفہ پر فائر کیے گئے میزائلوں، ڈرونز نے تباہی مچائی جس میں درجنوں اسرائیلی شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی وزارت صحت کے مطابق آج صبح ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے بعد 271 افراد اسپتالوں میں پہنچے، جن میں سے 4 کی حالت تشویش ناک ہے، 16 کو درمیانے زخم آئے ہیں، 220 کی حالت بہتر ہے، 24 افراد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ایران کے میزائل حملے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیر شیبہ کے سورکا میڈیکل سینٹر کا دورہ کیا، انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پرممکنہ حملے کو خارج از امکان قرار دینے سے انکارکردیا، ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ اب ایران میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے، تمام آپشن کھلے ہیں، اس بارے میں میڈیا میں بات کرنا بہتر نہیں ہے

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button