
بنگلہ دیش کی جنگی جرائم عدالت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، بصورتِ دیگر 24 جون سے مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں چلایا جائے گا۔
شیخ حسینہ اگست 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی بغاوت کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ وہ اب تک جاری کردہ حوالگی کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جولائی تا اگست 2024 کے دوران ان کی حکومت کے کریک ڈاؤن میں کم از کم 1400 افراد جان سے گئے تھے۔
پراسیکیوشن کے مطابق حسینہ نے وزارت داخلہ اور پولیس کو مظاہرے کچلنے کے احکامات دیے تھے۔
پراسیکیوٹرز نے ان پر پانچ الزامات عائد کیے ہیں جن میں اکسانا، اعانت، شراکت، سہولت کاری، سازش، اور قتل عام روکنے میں ناکامی شامل ہیں۔ ان الزامات کو بنگلہ دیشی قانون کے مطابق انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا گیا ہے۔
پراسیکیوشن ٹیم کو عدالت نے فوری طور پر نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ متعلقہ افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا جا سکے۔
شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ پر پابندی لگ چکی ہے، اور عبوری حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عام انتخابات اپریل 2026 میں ہوں گے، تاہم اپوزیشن جماعتیں قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔