
لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے دیگر امریکی ریاستوں میں بھی پھیل گئے ہیں، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید 2 ہزار نیشنل گارڈز کو متحرک کرنے کا حکم دیا ہے۔
مظاہروں میں شدت کے بعد یو ایس ناردرن کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ لاس اینجلس میں وفاقی املاک کی حفاظت کے لیے 700 میرینز بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج کے ردعمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پیر کو سان فرانسسکو اور سانتا آنا سمیت کیلیفورنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے ہوئے، جبکہ نیو یارک، اٹلانٹا، ڈیلاس، لوئس ویل، بوسٹن، شارلٹ اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی احتجاج کی اطلاعات ہیں۔
مظاہرین کی جانب سے گرفتار شدہ تارکین وطن اور یونین رہنما ڈیوڈ ہویتا کی رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امریکی فوج کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کرنا غیرآئینی اقدام ہے۔
دوسری جانب، ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوئم نے دعویٰ کیا ہے کہ مظاہرے پیشہ ورانہ انداز میں منظم کیے جا رہے ہیں اور مظاہرین کو ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ اور گورنر نیوزوم کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔ ٹرمپ نے نیوزوم کو نااہل قرار دیا جبکہ گورنر نے ٹرمپ کو آمریت پسند صدر کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا۔