
اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق پاکستان نے رواں مالی سال میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کیا، جس پر ماہرین نے طویل المدتی ترقی اور انسانی سرمائے کے تحفظ سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تعلیم کے شعبے پر صرف 0.8 فیصد جی ڈی پی خرچ ہوا، جبکہ ملک کی مجموعی شرح خواندگی 60.6 فیصد رہی۔ صنفی تفاوت بدستور موجود ہے، جہاں مردوں کی شرح خواندگی 68 فیصد اور خواتین کی 52.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ملک میں اس وقت 269 جامعات ہیں جن میں 160 سرکاری اور 109 نجی ادارے شامل ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت 61.1 ارب روپے خرچ کیے گئے، جبکہ یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی اساتذہ کی شرح 38 فیصد کے قریب ہے۔
دوسری جانب، صحت کے شعبے پر بھی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے کم خرچ ہوا۔ مجموعی صحت بجٹ 925 ارب روپے رہا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر 751 افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہے، تاہم ایک سال میں 20 ہزار سے زائد نئے ڈاکٹرز رجسٹر کیے گئے، جس کے بعد کل تعداد 3 لاکھ 19 ہزار ہو گئی ہے۔
ملک میں 39 ہزار 88 ڈینٹسٹ، 1 لاکھ 38 ہزار نرسیں، 46 ہزار 801 دایائیں اور 29 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس کے باوجود دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔
فی الحال ملک میں 1,696 اسپتال اور 5,434 بنیادی صحت یونٹس کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہزار میں سے 50 شیر خوار بچے سالانہ جان سے جاتے ہیں، تاہم اوسط عمر میں بہتری آ کر 67 سال ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق تعلیم و صحت پر خاطر خواہ سرمایہ کاری کے بغیر ملک کا انسانی وسائل پر انحصار کمزور پڑتا رہے گا۔