پاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

کراچی میں ملیر جیل سے زلزلے کے دوران 216 قیدی فرار

زلزلے کے جھٹکوں کے دوران قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جس میں ایک جاں بحق، درجنوں زخمی ہو گئے۔

پیر کی رات آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل میں افراتفری پھیل گئی جس کا فائدہ اٹھا کر 216 قیدی فرار ہوگئے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق فرار کی کوشش کے دوران ایک قیدی جان سے گیا، تین زخمی ہوئے، جبکہ پولیس اور ایف سی کے کم از کم چار اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

جیل انتظامیہ کے مطابق زلزلے کے باعث قیدیوں کو حفاظتی اقدام کے تحت بیرکوں سے باہر نکالا گیا تھا۔ اس دوران قیدیوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، ماڑی کا گیٹ توڑ ڈالا اور اہلکاروں پر حملہ کر کے فرار ہوگئے۔ حکام کے مطابق فرار ہونے والے زیادہ تر قیدی منشیات اور دیگر غیر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔

سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے بتایا کہ تقریباً 600 قیدی اُس وقت بیرک سے باہر موجود تھے، جن میں سے 216 فرار ہوئے، اور اب تک 80 سے زائد دوبارہ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ملیر جیل اور اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ جیل کی سیکیورٹی پولیس، رینجرز اور ایف سی کے سپرد کر دی گئی ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ملیر جیل کا دورہ کیا اور واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ جیل کی دیوار نہیں ٹوٹی بلکہ قیدی گیٹ کے راستے باہر نکلے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ جیل انتظامیہ کی طرف سے کوتاہی ہوئی ہو، جس کی جامع تحقیقات کی جائیں گی۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ جیل میں موجود بیشتر قیدی منشیات کے عادی اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس، رینجرز اور ایف سی کی بروقت کارروائی سے صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے اور مکمل سرچ آپریشن کے بعد قیدیوں کی فہرستوں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

ملیر، بھینس کالونی، لانڈھی، شاہ لطیف ٹاؤن اور گرد و نواح میں محاصرہ لگا کر فرار قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔ نیشنل ہائی وے کے ملحقہ راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں تاکہ فراریوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ علاقے کے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک افراد کی اطلاع فوری پولیس کو دیں۔

کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 بار زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button