
مئی میں دہشتگردی کے 85 واقعات میں 113 افراد جان سے گئے، رپورٹ
پی آئی سی ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں دہشتگردی میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کے مطابق، مئی 2025 میں ملک بھر میں دہشتگردی کے 85 حملوں میں 113 افراد جان سے گئے اور 182 زخمی ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار، عام شہری اور عسکریت پسند شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں 52 سیکیورٹی اہلکار، 46 عام شہری اور 4 امن کمیٹی کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ جوابی کارروائیوں میں 11 عسکریت پسند مارے گئے۔ زخمیوں میں 130 عام شہری، 47 سیکیورٹی اہلکار، 4 عسکریت پسند اور ایک امن کمیٹی رکن شامل ہے۔
مجموعی طور پر گزشتہ ماہ کے مقابلے میں دہشتگردی کے واقعات میں 5 فیصد اضافہ، سیکیورٹی اہلکاروں کی اموات میں 73 فیصد اضافہ اور عام شہریوں کے زخمی ہونے میں 145 فیصد اضافہ ہوا۔ البتہ زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں 20 فیصد کمی آئی۔
سیکیورٹی فورسز نے مئی میں مختلف آپریشنز میں 59 عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 52 کو گرفتار کیا۔ ان کارروائیوں میں 5 اہلکار جان سے گئے اور 12 افراد زخمی ہوئے۔ اس طرح دہشتگردانہ حملوں اور آپریشنز کی کل ہلاکتوں کی تعداد 172 رہی، جن میں 65 عسکریت پسند، 57 اہلکار اور 46 عام شہری شامل ہیں۔ زخمیوں کی مجموعی تعداد 194 ریکارڈ کی گئی، جبکہ 19 افراد کو اغوا بھی کیا گیا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں 35 حملوں میں 51 ہلاکتیں اور 100 زخمی، جبکہ خیبر پختونخوا میں 47 حملوں میں 59 ہلاکتیں اور 82 زخمی رپورٹ ہوئے۔ خضدار میں اسکول بس پر خودکش حملے میں 10 افراد جان سے گئے اور 35 زخمی ہوئے۔
سندھ میں 3 حملے ہوئے، جن میں 3 ہلاکتیں ہوئیں۔ پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کوئی حملہ رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پنجاب میں 39 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا۔ آزاد کشمیر کے راولاکوٹ میں کارروائی میں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ 4 عسکریت پسند مارے گئے۔