
وزیراعظم شہباز شریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور اور مختلف شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے انڈین جارحیت کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری انڈیا کے غیرذمہ دارانہ رویے کا نوٹس لے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے مگر علاقائی خودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کو خطے کے امن کے لیے ناگزیر قرار دیا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا سے روابط مضبوط بنانے اور سی پیک کو توسیع دینے کے لیے پرعزم ہے۔ تاجک صدر نے پاکستان کو قابل اعتماد دوست قرار دیا اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن و استحکام کے حامی ہیں۔
بعد ازاں گلیشیئرز سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو افسوسناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں لوگوں کی زندگیاں سیاسی مقاصد کے لیے یرغمال نہیں بنائی جا سکتیں، انڈیا کو سرخ لکیر عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 13 ہزار گلیشیئرز ہیں جو دریاؤں کے نظام کا نصف پانی فراہم کرتے ہیں، اور ان کا تحفظ ضروری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 25 مئی سے چار ملکی دورے کا آغاز کیا تھا، جس کا پہلا مرحلہ ترکیہ تھا، جہاں انہوں نے صدر رجب طیب اردوان سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، اس کے بعد وہ ایران گئے، جہاں صدر مسعود پزشکیان اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
27 مئی کو وزیراعظم آذربائیجان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے صدر الہام علییوف سے ملاقات کی اور پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مشترکہ فورم سے خطاب کیا تھا۔