
آذربائیجان کے شہر لاچین میں پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے اہم سہ فریقی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دونوں برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا کو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے روکنے کا بندوبست کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا نے پہلگام حملے کی تحقیقات کی مخلصانہ پیشکش مستردکی اور شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور حالیہ انڈیا-پاکستان کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، صدر رجب طیب اردوان اور میزبان صدر الہام علیوف نے شرکت کی۔
تینوں ممالک کے رہنماؤں نے انڈیا کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اجلاس میں ایک مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق ہوا جس میں باہمی دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے کا عزم کیا گیا۔
صدر اردوان نے سہ فریقی تعلقات کو ایک قوم، تین ریاستیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اتحاد صرف سفارتی نہیں بلکہ تاریخی، ثقافتی اور دینی بنیادوں پر استوار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاراباخ کی آزادی آذربائیجان کے عزم اور برادرانہ حمایت کا ثمر ہے، اور اسی طرح پاکستان کو بھی انڈیا کی جارحیت کا سامنا ہے، جس میں ترکیہ ہر ممکن حمایت فراہم کرے گا۔
صدر الہام علیوف نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ تعلقات صرف سفارتی نہیں بلکہ دلوں کے رشتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آذربائیجان جلد ہی پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کرے گا، اور مشترکہ عسکری مشقوں کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاراباخ کی آزادی صرف آذربائیجان نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کی فتح ہے۔
تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک تھے۔
تینوں رہنماؤں نے لاچین میں منعقدہ آذربائیجان کی یومِ آزادی کی تقریب میں بھی شرکت کی، جہاں رہنماؤں نے آذربائیجان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔