
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو 27 سال مکمل ہو گئے، اسی حوالے سے آج 28 مئی کو یومِ تکبیر کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ 28 مئی 1998 کو چاغی کے پہاڑوں میں کیے گئے کامیاب ایٹمی دھماکوں نے پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی قوت کا درجہ دیا اور قومی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یومِ تکبیر صرف ایک دن نہیں بلکہ قومی وقار، خودمختاری اور قربانیوں کی علامت ہے۔
صدر زرداری نے ایٹمی صلاحیت کو امن کی ضامن قرار دیا اور سائنسدانوں، انجینئروں، عسکری و سیاسی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے پر خراجِ عقیدت بھی پیش کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ انڈیا کی طرف سے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفاد کا دفاع کرتے ہوئے 6 ایٹمی تجربے کیے، جس سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا بلکہ دنیا نے پاکستان کی قوت کو تسلیم کیا۔
انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، سائنسدانوں، انجینئرز اور مسلح افواج کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ چاغی کی پہاڑیوں سے بلند ہونے والی اللہ اکبر کی صدا آج بھی قومی عزم کی علامت ہے۔
اس موقع پر افواجِ پاکستان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تمام سروسز چیفس نے قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ایٹمی پروگرام قومی امانت ہے، جو عوام کی اجتماعی امنگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے مادرِ وطن کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی صلاحیت دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور خطے میں امن کے قیام کی ضامن ہے۔
ملک بھر میں یومِ تکبیر کے موقع پر عام تعطیل منائی جا رہی ہے اور مختلف تقریبات، سیمینارز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔