
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی جانب سے کیف پر کیے گئے اب تک کے سب سے بڑے فضائی حملے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پیوٹن سے بالکل خوش نہیں اور انہیں پاگل قرار دیا۔
ٹرمپ نے کہا، اسے کیا ہوگیا ہے؟ وہ لوگوں کو مار رہا ہے۔ میں پیوٹن کو کافی عرصے سے جانتا ہوں، ہمیشہ اچھے تعلقات رہے، لیکن اب وہ شہروں پر راکٹ برسا رہا ہے اور لوگوں کو قتل کر رہا ہے۔ مجھے یہ بالکل پسند نہیں۔
امریکی صدر نے روس پر مزید پابندیاں لگانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا، یقیناً ہم اس پر غور کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں پیوٹن کو پاگل قرار دیتے ہوئے کہا، میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ وہ یوکرین کا صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پورا ملک چاہتا ہے، اور اگر اس نے ایسا کیا تو یہ روس کے زوال کا سبب بنے گا۔
ٹرمپ نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جس انداز میں بات کر رہے ہیں، وہ اپنے ملک کے حق میں نہیں ہے۔ اگر میں ان کی جگہ صدر ہوتا تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی۔ یہ جنگ بائیڈن، زیلنسکی اور پیوٹن کی ہے، میری نہیں۔
روس نے اتوار کی رات یوکرین پر 367 میزائل اور ڈرونز داغے، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ 2022 کے بعد سے کسی ایک رات میں سب سے بڑا حملہ تھا۔
یوکرین کے کئی علاقوں میں دوبارہ فضائی حملے کے سائرن بجے جبکہ دارالحکومت ماسکو کے قریب دو یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔ امریکہ اور یورپی اتحادی روس پر مزید دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان گزشتہ ہفتے 2 گھنٹے طویل فون کال میں جنگ بندی کے ممکنہ معاہدے پر بات ہوئی تھی۔ یوکرین نے 30 دن کی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے، جبکہ پیوٹن کی جانب سے اس پر کوئی حتمی موقف سامنے نہیں آیا۔
جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں، مگر میدانِ جنگ میں شدت بدستور برقرار ہے۔