
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ رمضان کا یہ خوبصورت فانوس محض ایک چراغ نہیں، بلکہ ایک ہزار سال پرانی کہانی کا حصہ ہے؟ آئیے، تاریخ کے دریچوں سے جھانکتے ہیں کہ مصر میں فانوس کی کہانی کیسے شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ صدیوں پرانی ایک مصری روایت ہے جس کی جڑیں فاطمی خلافت (909-1171 عیسوی) کے دور تک جاتی ہیں.
969 عیسوی میں، جب فاطمی خلیفہ المعز لدین اللہ رمضان کے مہینے میں قاہرہ پہنچے، تو ان کا استقبال کرنے کے لیے شہر کے لوگوں نے ہاتھوں میں فانوس اٹھا رکھے تھے۔ یہ روشنیوں سے بھرپور منظر اتنا دلکش تھا کہ فانوس کو رمضان کی علامت بنا دیا گیا۔
بعد میں، فاطمی حکمرانوں نے یہ روایت باضابطہ طور پر اپنائی اور حکم دیا کہ رمضان کی راتوں میں گلیوں، بازاروں اور مساجد کو فانوس سے سجایا جائے تاکہ پورا شہر روشنی میں نہا جائے۔ فانوس کا استعمال نہ صرف روشنی کے لیے ہوتا تھا بلکہ یہ ایک تہوار کی شکل اختیار کر گیا، جہاں بچے اور بڑے فانوس لے کر سڑکوں پر نکلتے، روایتی نغمے گاتے اور خوشیاں مناتے۔ پہلے فانوس ہاتھ سے بنائے جاتے تھے اور تانبے، پیتل اور رنگین شیشے کا استعمال ہوتا تھا۔ ان میں موم بتی یا تیل کا چراغ جلایا جاتا تھا جو رات بھر روشنی دیتا تھا۔ جیسے جیسے وقت بدلا، فانوس میں بھی جدت آتی گئی۔
وقت کے ساتھ ساتھ فانوس کی بناوٹ میں بھی تبدیلیاں آتی گئیں۔عثمانی دور میں فانوس کی بناوٹ مزید خوبصورت ہوئی، اور اسے زیادہ فنکارانہ انداز میں بنایا جانے لگا۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں تیل اور موم بتی کی جگہ الیکٹرک بلب نے لے لی جبکہ آج، ایل ای ڈی لائٹس اور میوزیکل فانوس رمضان کی زینت بن چکے ہیں۔
فانوس صرف روشنی کا ذریعہ نہیں بلکہ رمضان کی خوشیوں اور برکتوں کی علامت ہے۔ مصر میں آج بھی رمضان کی آمد پر بازار رنگ برنگے فانوس سے بھر جاتے ہیں، بچے انہیں خریدتے ہیں، اور پورے ملک میں یہ ایک جشن کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ خوبصورت روایت مصر سے نکل کر دیگر عرب ممالک اور مسلم دنیا میں بھی مقبول ہو چکی ہے، لیکن فانوس کی اصل پہچان آج بھی مصر سے جڑی ہوئی ہے۔