پاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

نور مقدم قتل کیس: مجرم کی اپیلیں مسترد، سزائے موت برقرار

عدالت نے زیادتی پر سزائے موت کو عمر قید سے تبدیل کرتے ہوئے اغوا کی سزا ایک سال کر دی۔

سپریم کورٹ نے منگل کے روز نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے قتل کے جرم میں سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا، جب کہ زیادتی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل اور اغوا کی سزا کو 10 سال سے کم کر کے ایک سال کر دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا، جس میں جسٹس اسحاق ابراہیم اور جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔ عدالت نے مقتولہ نور مقدم کے اہلِ خانہ کو دیے جانے والے معاوضے کا حکم بھی برقرار رکھا۔

عدالت نے شریک ملزمان مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار الدین کی اپیلیں بھی مسترد کر دیں، تاہم ان کی سزائیں کم کر کے جیل میں گزاری گئی مدت کے برابر کر دی گئیں، جس کے باعث ان کی فوری رہائی کا حکم دیا گیا۔

سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ”مجرم ظاہر جعفر اور مقتولہ نور مقدم کے درمیان ایسا تعلق تھا جو ہمارے معاشرتی اور مذہبی اقدار سے متصادم ہے۔ ایسے رشتے ہمارے معاشرے کی بدقسمتی ہیں۔“

ظاہر جعفر کی جانب سے وکیل سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم کی نمائندگی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ٹرائل کے دوران ظاہر جعفر کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے کوئی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا، حالانکہ اس نے کئی بار دعویٰ کیا تھا کہ وہ مقدمہ چلانے کے قابل نہیں۔

وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ قتل کے سوا دیگر الزامات بعد میں شامل کیے گئے اور شواہد، بشمول سی سی ٹی وی ویڈیو، حالات پر مبنی ہیں جن میں کوئی براہِ راست عینی شاہد شامل نہیں۔ انہوں نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ قتل میں استعمال ہونے والے آلے پر ظاہر جعفر کے فنگر پرنٹس نہیں ملے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ رات 10 بجے پیش آیا جبکہ ایف آئی آر 11:30 بجے درج کی گئی، اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق وقتِ وفات 12:10 بجے تھا۔ وکیل بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ تھیراپی ورکس کے ملازم امجد، جو واقعے میں زخمی ہوا، کو گواہ بنانے کے بجائے ملزم نامزد کیا گیا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کے موکل کی ذہنی صحت سے متعلق ریکارڈ 2013 سے موجود ہے، لیکن ٹرائل کورٹ نے اس کا درست جائزہ نہیں لیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ نکتہ مقدمے کے آغاز میں کیوں نہیں اٹھایا گیا، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جنوری 2022 میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، مگر اسے مقدمے کے اختتام پر دائر کرنے کی وجہ سے خارج کر دیا گیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے، ”اگر ہم تمام قانونی تقاضوں کو جوں کا توں نافذ کرنے پر اصرار کریں تو کسی بات کو ثابت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ “ انہوں نے کہا کہ اپیلوں کو غیر معینہ مدت تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا، اور عدلیہ کو اس دباؤ کو برداشت کرنا ہوگا۔

منگل کے روز سماعت کے آغاز پر عدالت نے وکیلِ صفائی کو مزید دلائل کی اجازت دی، جب کہ ایڈووکیٹ شاہ خاور نے شریک ملزمان کی اپیلوں پر اپنا مؤقف پیش کیا، جس کے بعد فیصلہ سنایا گیا۔

نور مقدم قتل کیس نے ملک میں خواتین کے تحفظ، عدالتی عمل اور سماجی رویوں پر وسیع بحث کو جنم دیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button