یروشلم:
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو شدید سیاسی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ اہم اتحادی جماعت شاس پارٹی نے حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس فیصلے کے بعد نیتن یاہو کی حکومت کی پارلیمان میں اکثریت کھو جانے کا واضح خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں شاس کے 11 ارکان موجود ہیں، اور ان کی علیحدگی کے بعد نیتن یاہو کی حکومت کے پاس صرف 50 ارکان رہ جائیں گے، جو کہ 120 رکنی ایوان میں اکثریت کے لیے ناکافی ہے۔
مذہبی طلبہ کو فوجی سروس سے استثنیٰ کا قانون بحران کا سبب
حالیہ سیاسی تناؤ کی بنیادی وجہ وہ متنازعہ قانون ہے جس کے تحت مذہبی تعلیمی اداروں (یشیوا) کے طلبہ کو فوجی خدمات سے استثنیٰ دیا جانا تھا۔ نیتن یاہو حکومت اس قانون کو پارلیمان سے منظور کرانے میں ناکام رہی، جس پر شاس پارٹی نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا۔
یو ٹی جے پہلے ہی حکومت چھوڑ چکی
اس سے قبل نیتن یاہو کی ایک اور مذہبی اتحادی جماعت United Torah Judaism (یو ٹی جے) بھی حکومت اور کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کر چکی ہے۔ یو ٹی جے کی علیحدگی کے بعد حکومت پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار تھی، اور اب شاس پارٹی کے فیصلے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ممکنہ سیاسی نتائج
اگر شاس پارٹی اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرتی ہے تو نیتن یاہو کو ایوان میں اکثریت حاصل رکھنے کے لیے نئی سیاسی جوڑ توڑ یا ممکنہ طور پر نئے انتخابات کی طرف جانا پڑے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بحران نیتن یاہو کی کئی سالہ سیاسی حکمرانی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو سکتا ہے۔





