
دماغی جوانی لمبی عمر کی کنجی: نئی تحقیق نے بڑھاپے کی امید جگا دی
دنیا بھر میں بڑھتی عمر کے ساتھ جسمانی کمزوری اور ذہنی سستی کو عام سمجھا جاتا ہے، مگر حالیہ تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے ایک حوصلہ افزا پیغام دیا ہے:
"اگر آپ کا دماغ جوان ہے، تو آپ کی زندگی بھی طویل ہو سکتی ہے!”
بین الاقوامی جریدے "نیچر میڈیسن” میں شائع ہونے والی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جن افراد کا دماغ بڑھاپے میں بھی متحرک اور تازہ دم رہتا ہے، ان میں نہ صرف قبل از وقت موت کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ وہ الزائمر جیسی دماغی بیماریوں سے بھی بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔
تحقیق کی اہم جھلکیاں:
جوان دماغ والے افراد میں موت کا خطرہ 40 فیصد کم پایا گیا۔
جبکہ "بوڑھے دماغ” رکھنے والے افراد میں یہ خطرہ تین گنا زیادہ تھا۔
ایسے افراد میں الزائمر کا خدشہ بھی تین گنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ تحقیق برطانیہ کے BioBank کے 44,500 افراد پر کی گئی، جس میں ان کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کرتے ہوئے 11 اہم اعضاء کی حیاتیاتی عمر کا جائزہ لیا گیا۔
دماغی جوانی کا مطلب کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق دماغی طور پر جوان رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان:
نئی چیزیں سیکھتا رہے
مطالعہ، تحریر، تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لے
ذہنی مشقیں کرے (پزل، شطرنج، یادداشت کے کھیل وغیرہ)
دوسروں سے بات چیت کرے اور خود کو سماجی طور پر سرگرم رکھے
مستقبل کی امید:
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ٹونی ویس-کورے کے مطابق، اس ریسرچ کی بنیاد پر ایسے خون کے ٹیسٹ جلد دستیاب ہو سکتے ہیں جو دماغ، دل اور مدافعتی نظام کی حقیقی اندرونی عمر کا پتہ دے سکیں گے — یعنی عمر کا اندازہ صرف سالوں سے نہیں بلکہ جسم کی حالت سے ہوگا۔
اچھی خبر کا پیغام:
یہ تحقیق نہ صرف طبی دنیا کے لیے ایک پیش رفت ہے، بلکہ عام انسانوں کے لیے ایک نئی امید بھی ہے کہ بڑھاپے کو ذہنی طور پر شکست دی جا سکتی ہے۔ اب یہ صرف جسم کی عمر نہیں، بلکہ دماغ کی تازگی ہے جو لمبی اور صحت مند زندگی کی ضمانت بن سکتی ہے۔