اوورسیزتازہ ترین

فرانسیسی صدر کا انکشاف: مئی کی پاک بھارت لڑائی تاریخ کی بدترین فضائی جھڑپوں میں شامل

پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے مئی 2025 میں ہونے والی پاک-بھارت جنگ کو "گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے شدید فضائی لڑائیوں میں سے ایک” قرار دیا ہے۔ عالمی دفاعی منظرنامے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس جنگ کو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا۔

دفاعی اخراجات میں تاریخی اضافہ
صدر میکرون نے اتوار کو ایک اہم پالیسی خطاب میں فرانس کے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا:

"2017 میں فرانسیسی فوج کا بجٹ 32 ارب یورو تھا، لیکن بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ بجٹ اب 2030 کے بجائے 2027 تک 64 ارب یورو تک لے جایا جائے گا۔”

انہوں نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، خاص طور پر پاک بھارت جنگ، ایران پر حملے، اور یوکرین میں جاری جنگ کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک نئے دور کی غیر یقینیوں میں داخل ہو چکی ہے۔

پاک بھارت جنگ: عالمی سطح پر تشویش
فرانسیسی صدر نے واضح طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی فضائی جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا:

"یہ جھڑپیں حالیہ دہائیوں کی سب سے شدید فضائی لڑائیوں میں شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ علاقائی تنازعات کس طرح عالمی امن کو چیلنج کر سکتے ہیں۔”

جنگ کا پس منظر
پاک بھارت کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے۔ پاکستانی افواج نے نہ صرف فوری جوابی کارروائی کی بلکہ:

بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے؛

ادھم پور، پٹھان کوٹ، اور آدم پور کے اہم ائیر بیسز کو نشانہ بنایا؛

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے پاور گرڈ پر سائبر حملہ کر کے بجلی کا نظام مفلوج کیا؛

بھارت کا ملٹری سیٹلائٹ نیٹ ورک عارضی طور پر جام کر کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز کو متاثر کیا۔

پاکستان نے عالمی برادری کو کئی مرتبہ بھارت کی جارحانہ حکمت عملی سے آگاہ کیا، لیکن حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔

عالمی سلامتی کے لیے انتباہ
صدر میکرون نے کہا کہ دنیا کو ایسے غیر متوقع اور پرخطر واقعات کے لیے تیار رہنا ہوگا:

"اس دنیا میں آزاد اور محفوظ رہنے کے لیے قوموں کو طاقتور ہونا پڑے گا، اور فرانس اپنی دفاعی پوزیشن مزید مستحکم کرے گا۔”

تجزیہ: نیا عالمی سیکیورٹی منظرنامہ
عالمی مبصرین کے مطابق فرانسیسی صدر کا یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ یورپی طاقتیں جنوبی ایشیا کے تنازعات کو اب صرف علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی خطرہ تصور کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں نہ صرف پاکستان اور بھارت کی خارجہ پالیسیوں بلکہ عالمی طاقتوں کے سفارتی ردِعمل پر بھی نگاہ رکھنا ضروری ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button