
زمین کے ریڈار سسٹم خلائی مخلوق کی نظروں میں آ سکتے ہیں، نئی تحقیق کا انکشاف
لندن: ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زمین پر موجود ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں پر نصب ریڈار سسٹمز ایسی طاقتور شعاعیں خارج کرتے ہیں جو خلا میں موجود ممکنہ خلائی مخلوقات (ایلیئنز) کے لیے قابلِ شناخت ہو سکتی ہیں۔
یہ تحقیق برطانیہ میں ہونے والی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی کی نیشنل آسٹرونومی میٹنگ میں پیش کی گئی، جس میں سائنس دانوں نے اس سوال پر غور کیا کہ اگر ایلیئنز کے پاس اپنی جدید ٹیلی اسکوپس موجود ہوں تو وہ زمین کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
"ایلیئنز کو زمین کے سگنلز دیکھنے کے لیے ’سائنس فکشن‘ جیسے ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں”
تحقیق کے مرکزی سائنس دان، یونیورسٹی آف مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے ماہر فلکیات پروفیسر مائیکل جیریٹ کا کہنا تھا کہ خلائی مخلوق کو زمین کی موجودگی کا اندازہ لگانے کے لیے غیر معمولی طور پر ترقی یافتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
"انہیں صرف چند سو سال ہم سے جدید ہونا کافی ہے۔”
ریڈار سسٹمز کی لہریں خلا تک جا پہنچتی ہیں
زمین پر موجود ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر استعمال ہونے والے ریڈار سسٹمز، جو طیاروں کی نشان دہی کے لیے استعمال ہوتے ہیں، ریڈیو لہریں خارج کرتے ہیں جو خلا میں بھی سفر کرتی ہیں۔
پروفیسر جیریٹ اور ان کے ساتھی ریمیرو کیسے سیڈ نے تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) شعاعیں خلا میں کہاں تک دیکھی جا سکتی ہیں۔
زمین کے سویلین ہوائی اڈے ہر سال دو ارب میگاواٹ توانائی خارج کرتے ہیں
تحقیق کے مطابق، صرف سویلین ایئرپورٹس کی ریڈار لہریں زمین سے تقریباً دو ارب میگا واٹ شدت کی شعاعیں خارج کرتی ہیں۔ یہ اتنی طاقتور ہیں کہ امریکہ میں موجود گرین بینک ٹیلی اسکوپ انہیں 200 نوری سال کے فاصلے سے محسوس کر سکتی ہے۔
ایلیئنز کو زمین کی موجودگی کا سگنل؟
سائنس دانوں کے مطابق اگر خلا میں کوئی ترقی یافتہ تہذیب موجود ہے اور وہ زمین کی سمت میں حساس آلات رکھتی ہے، تو ممکن ہے کہ وہ ان ریڈار لہروں کا پتہ لگا کر زمین پر زندگی کی موجودگی کا اندازہ لگا لے۔
ماہرین کا کہنا ہے:
یہ تحقیق اس سمت میں ایک نئی سوچ کو جنم دیتی ہے کہ ہو سکتا ہے ہم نے خود کو شعوری یا غیر شعوری طور پر "کائناتی منظرنامے” میں نمایاں کر دیا ہو۔