
لندن (بین الاقوامی ڈیسک) – برطانوی پارلیمنٹ کے درجنوں ارکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر فوری تسلیم کرے اور مشرقِ وسطیٰ میں دو ریاستی حل کے عملی نفاذ میں مؤثر کردار ادا کرے۔
ذرائع کے مطابق، لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے 60 ارکانِ پارلیمنٹ نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لَیمی کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کو ریاست کا درجہ دینا چاہیے۔
عملی اقدامات کا مطالبہ
خط میں ارکان نے نشاندہی کی کہ برطانوی حکومت طویل عرصے سے دو ریاستی حل کی زبانی حمایت کرتی رہی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ صرف بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں۔ ارکان کے مطابق، فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنا ہی برطانیہ کے مؤقف کو حقیقت کا روپ دے سکتا ہے۔
غزہ میں انسانی امداد کی ضرورت
اراکینِ پارلیمنٹ نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی UNRWA کے ذریعے غزہ کے جنگ زدہ علاقوں میں فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ فلسطینیوں کو خوراک، طبی سہولیات اور پناہ جیسی بنیادی ضروریات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
برطانیہ کی اخلاقی ذمہ داری
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ برطانیہ کا مشرق وسطیٰ میں ایک تاریخی نوآبادیاتی کردار رہا ہے، لہٰذا اس پر سیاسی اور اخلاقی طور پر لازم ہے کہ وہ انصاف، امن اور انسانی حقوق کی حمایت کرے۔ ارکان نے زور دیا کہ دیرینہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے برطانیہ کو قیادت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ
سیاسی مبصرین کے مطابق، اس مطالبے سے برطانوی حکومت پر فلسطین سے متعلق اپنی پالیسی کو واضح اور مؤثر بنانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری بڑی طاقتوں سے فیصلہ کن اقدامات کی توقع کر رہی ہے۔