پاکستانتازہ ترین

سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم فیصلہ: ججز کے خلاف نمٹائی گئی شکایات پر نام ظاہر نہ کرنے کی پالیسی برقرار

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عدالتی ضابطہ اخلاق اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس تجویز کو بھی زیر بحث لایا گیا کہ آیا ان ججز کے نام پبلک کیے جائیں جن کے خلاف شکایات نمٹا دی گئی ہوں، تاہم کونسل نے یہ تجویز مسترد کرتے ہوئے رازداری کو ترجیح دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ذرائع کے مطابق، اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں شکایتی نظام کی شفافیت، عدلیہ کی ساکھ کے تحفظ اور خود احتسابی کے دائرہ کار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

کونسل کے مؤقف کے مطابق، وہ ججز جن کے خلاف شکایات نمٹا دی گئی ہوں، ان کے نام منظر عام پر لانا غیر ضروری ہے کیونکہ اس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل نے اس حوالے سے رازداری کو اولین ترجیح قرار دیا۔

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس: لاپتہ افراد کے مسئلے پر تشویش کا اظہار
دوسری جانب، ایک روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی صدارت میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر اعلیٰ عدالتی حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے اعلامیے کے مطابق، کمیٹی نے ملک میں لاپتہ افراد کے بڑھتے ہوئے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ عدلیہ بنیادی انسانی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اس سلسلے میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ادارہ جاتی سطح پر جامع ردعمل کی نگرانی کرے گی۔

عدلیہ کا مؤقف: شفافیت اور رازداری میں توازن ضروری
سپریم جوڈیشل کونسل اور عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے یہ اجلاس موجودہ عدالتی قیادت کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ عدلیہ خود احتسابی، شفافیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم ساتھ ہی وہ عدالتی وقار اور انفرادی ساکھ کے تحفظ کے تقاضوں کو بھی ملحوظِ خاطر رکھنا چاہتی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button