سائنس ٹیکنالوجی

پاکستان کا کرپٹو انقلاب: بٹ کوائن ذخائر پر مبنی نیا مالیاتی نظام متعارف

اسلام آباد / نیویارک: پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرپٹو کرنسی پر مبنی ایک نیا مالیاتی نظام متعارف کرا دیا گیا ہے، جس کے تحت بٹ کوائن کو قومی ذخائر میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، بالخصوص معروف بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارم "کوائن ٹیلی گراف میگزین” نے پاکستان کی اس پیش رفت کو ایک "مثبت اور دور رس” قدم قرار دیا ہے۔

وزیرِ مملکت و چیف ایگزیکٹو پاکستان کرپٹو کونسل بلال بن ثاقب نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں موجود بٹ کوائنز کو اب قومی مالیاتی ذخائر کا حصہ بنایا جائے گا، جس سے معاشی استحکام، خود مختاری اور ڈیجیٹل فنانس کے دروازے کھلیں گے۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا:
"پاکستان اب ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (DeFi) کے ذریعے اپنے بٹ کوائن ذخائر سے آمدنی حاصل کرے گا۔ یہ ایک ایسا فنانشل سسٹم ہے جس میں قرضہ جات، سرمایہ کاری اور دیگر مالی لین دین بغیر کسی بینکاری ادارے کے ممکن ہوں گے۔”

حکومتی اداروں کا اشتراک
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) ایک مضبوط اور شفاف کرپٹو فریم ورک تشکیل دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں، تاکہ کرپٹو اثاثوں کو قانونی دائرہ کار میں لایا جا سکے۔

عالمی پذیرائی
"کوائن ٹیلی گراف میگزین” نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا کرپٹو اثاثوں کی طرف یہ قدم عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اس کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گا بلکہ نوجوانوں اور اسٹارٹ اپس کے لیے ڈیجیٹل مالیاتی مواقع بھی فراہم کرے گا۔

تجزیہ کاروں کی رائے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے کرپٹو اثاثوں کو بروقت اور مؤثر طریقے سے ریگولیٹ کیا، تو یہ ملک کی فنانشل انوویشن، بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی شفافیت کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button