صحت

تحقیق میں انکشاف: یورپ کا عام کھانسی کا شربت پارکنسنز کے مریضوں میں ڈیمینشیا کی پیشرفت روک سکتا ہے

ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یورپ میں استعمال ہونے والا ایک عام کھانسی کا شربت، ایمبروکسول، پارکنسنز کے مریضوں میں ڈیمینشیا کی پیشرفت کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پارکنسنز کی بیماری میں مبتلا تقریباً نصف افراد 10 سال کے اندر ڈیمینشیا کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے یادداشت میں کمی، الجھن، نظروں کا دھوکا اور مزاج میں تبدیلی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ علامات نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے خاندانوں اور صحت کے نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کے نیورولوجسٹ اسٹیفن پاسٹرناک کے مطابق موجودہ علاج صرف علامات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، لیکن بیماری کی اصل پیشرفت کو روکنے میں ناکام ہیں۔

اس نئے ایک سالہ تحقیقی مطالعے میں 55 پارکنسنز کے مریضوں پر تجربہ کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ کو روزانہ ایمبروکسول دی گئی اور دوسرے گروپ کو پلیسبو (فرضی دوا) دی گئی۔ تحقیق کے دوران یادداشت، نفسیاتی علامات اور دماغی نقصان کے اشارے (جی ایف اے پی) کا جائزہ لیا گیا۔

نتائج میں واضح ہوا کہ پلیسبو لینے والے مریضوں کی نفسیاتی علامات بگڑتی رہیں، جبکہ ایمبروکسول لینے والے افراد کی علامات مستحکم رہیں، جس سے یہ دوا پارکنسنز میں ڈیمینشیا کی رفتار کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق پارکنسنز اور ڈیمینشیا کے علاج میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو امید کی نئی کرن مل سکتی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button