
ایران اسرائیل جنگ کا 9واں روز، تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں میزائلز کی برسات
اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلئیرسائٹ کو نشانہ بنایا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا
اسرائیل اورایران کی جنگ نویں روز میں داخل ہوگئی ہے، دونوں جانب سے بھرپور حملے جاری ہیں، ایران نے تل بیب سمیت اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائلوں کی برسات کا اٹھارہواں مرحلہ مکمل کرلیا، خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کی جانب سے نئی کارروائیوں میں اسرائیلی فوجی مراکز، دو فضائی اڈے، دفاعی صنعتیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں رات گئے فوج نے ایران کی طرف سے آنے والے میزائلوں کے بارے میں اپنے عوام کو خبردار کیا اوروسطی اسرائیل کے مختلف حصوں میں فضائی حملے کے سائرن بجنے لگے، ایران سے فائر کیے گئے میزائل وسطی اسرائیل کے علاقے ڈین گش میں بھی گرے، اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈوم نے کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے نئے حملے وسطی اسرائیل میں ایک عمارت کی چھت پر آگ لگنے کی اطلاع ملی۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے بھی میزائل حملے جاری ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلیئر سائٹ کونشانہ بنایا ہے، تاہم اسرائیلی حملے کے نتیجے میں کسی خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہورہا، ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق لنجان، مبارکہ، شہریزہ اور اصفہان کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اصفہان میں جوہری مقام کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاہم خطرناک مواد کا کوئی اخراج نہیں ہوا۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران پر حملوں میں قدس فورس کے سربراہ سعید یزد مارے گئے ہیں، اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ایران میں ایک اپارٹمنٹ پر حملہ کیا جس میں قدس فورس کے سربراہ مارے گئے، دوسری جانب غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے قدس فورس کے سربراہ کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔
اس سے پہلے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے جوہری تنصیبات پرحملوں کو سنگین جنگی جرائم قرار دیا اورکہا کہ اسرائیلی حملے رکنے تک کسی سے مذاکرات نہیں کریں گے، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ اپنی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔