اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

اسرائیل میں 26 لاکھ شہری غیر محفوظ قرار

ریاستی محتسب نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ میزائل حملوں میں لاکھوں افراد کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔

حالیہ ایرانی حملوں کے بعد یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک کے کم از کم 26 لاکھ شہری ایسے علاقوں میں مقیم ہیں جہاں محفوظ پناہ گاہیں دستیاب نہیں، جس سے ان کی سلامتی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق ریاستی محتسب نے تل ابیب اور گرد و نواح کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے میزائل حملوں کے دوران لاکھوں افراد کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو شہری سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ قرار دیا۔
2020 میں جاری کردہ ایک سرکاری رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ اسرائیل بھر میں 26 لاکھ سے زائد شہری ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں کوئی مؤثر پناہ گاہ موجود نہیں۔ تاہم پانچ سال بعد بھی حکومت اس خلا کو پُر کرنے میں ناکام رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاص طور پر جنوبی تل ابیب، نیگیو اور عرب قصبے جیسے تمرا، سخنین، مجد الکروم اور دیگر میں ہزاروں شہری غیر محفوظ گھروں میں رہ رہے ہیں۔ اسرائیل کے شمالی علاقوں میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں 39 میں سے 23 بستیوں میں ایک بھی مناسب پناہ گاہ موجود نہیں۔
یہ صورتحال اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی میں واضح تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک جانب وہ ایران اور دیگر ممالک کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، مگر دوسری جانب اپنے شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button