اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

چین کا ایٹمی ہٹھیاروں میں تیزی سے اضافہ، وارہیڈز کی تعداد 600 ہو گئی

روس کے پاس5459 اور امریکا کے پاس 5177 وارہیڈز ہیں جو دنیا کے تقریباً 90 فیصد جوہری ہتھیار بنتے ہیں۔

بین الاقوامی سیکیورٹی تھنک ٹینک سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق چین کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ 2025 کے آغاز تک 600 وارہیڈز تک پہنچ گیا، جو دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھتا ہوا ذخیرہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین 2023 سے ہر سال 100 کے قریب نئے وارہیڈز شامل کر رہا ہے۔

ایس آئی پی آر آئی کی سالانہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسلحہ کنٹرول کے عالمی معاہدوں کے زوال کے باعث ایک نئی اور خطرناک جوہری دوڑ جنم لے رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے اب تک 350 سے زائد نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سائلوز تیار کر لیے ہیں، اور دہائی کے اختتام تک ان کی تعداد روس اور امریکا کے برابر ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر چین 2035 تک 1500 وارہیڈز تک بھی پہنچے، تو یہ روس یا امریکا کے ذخائر کا ایک تہائی ہوگا۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ صرف دفاعی جوہری پالیسی پر عمل پیرا ہے اور پہلے استعمال سے گریز کرتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق بیجنگ صرف اپنی سلامتی کے لیے محدود صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی جوہری وارہیڈز کی مجموعی تعداد معمولی کمی کے ساتھ 12 ہزار 241 رہ گئی ہے، تاہم ایک ’خطرناک نئی جوہری دوڑ‘ کے ابھرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

روس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا جوہری ذخیرہ ہے جو 5 ہزار 459 وارہیڈز پر مشتمل ہے، جبکہ امریکا کے پاس 5 ہزار 177 وارہیڈز ہیں۔ یہ دونوں ممالک دنیا کے تقریباً 90 فیصد جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا کے 9 جوہری ریاستوں نے 2024 میں اپنے ہتھیاروں کو جدید بنانے کا عمل جاری رکھا، جن میں انڈیا اور پاکستان بھی شامل ہیں۔

ایس آئی پی آر آئی نے خبردار کیا ہے کہ جوہری اسلحہ نہ صرف تحفظ کا ضامن نہیں بلکہ ممکنہ تباہ کن تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button