اوورسیزتازہ ترین
ٹرنڈنگ

ایران اسرائیل جھڑپیں تیز، درجنوں ہلاکتیں اور سینکڑوں زخمی

ایران کی جوابی کاروائی وعدہِ صادق 3 کے تحت 5 اسرائیلی ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید فضائی جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ رات گئے ایرانی حملوں کے نتیجے میں تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں، جب کہ خاتون سمیت 5 اسرائیلی شہری جان سے گئے اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

اسرائیل نے اس سے قبل ایران کے عسکری اور جوہری مراکز کو نشانہ بنایا تھا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 78 افراد ہلاک ہوئے، جن میں اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدان شامل تھے۔

ایران نے جوابی کارروائی وعدہ صادق 3 کے تحت 150 سے زائد بیلسٹک اور ہائپرسونک میزائل داغے، جنہوں نے اشدود، حیفہ، تل ابیب اور بیرشیبا میں مبینہ اسٹریٹیجک اہداف کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں واقع اسرائیلی جوہری تحقیقی مرکز اور ڈیفنس فورسز کے ہیڈکوارٹرز پر بھی حملہ کیا گیا۔

تل ابیب میں متعدد میزائل گرنے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کی ہے اور تباہ شدہ عمارتوں کی فوٹیج پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے 2 اسرائیلی جنگی طیارے مار گرائے، جن میں سے ایک خاتون پائلٹ کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ طیارے ایرانی سرزمین پر داخل ہو چکے تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج اور فضائیہ نے تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دارالحکومت تہران، حکیمیہ، وردآورد اور عبدانان میں دھماکوں اور فضائی دفاعی کارروائیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ مہرآباد کے قریب ایک بڑے دھماکے کی تصدیق کی گئی ہے، تاہم آزادی ٹاور کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی تردید کر دی گئی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا تھس کہ اسرائیل نے رات کے وقت حملہ کر کے اپنی تلخ اور تکلیف دہ تقدیر خود لکھ دی ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے مزید کارروائیوں کا عندیہ دیا ہے، جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے ایران کو جلد از جلد جوہری معاہدے پر آمادہ ہونے کی وارننگ دی ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button