
انڈیا کے شہر احمد آباد میں 12 جون کو ایئر انڈیا کی لندن جانے والی پرواز ٹیک آف کے چند لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگئی تھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 265 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ طیارے میں 230 مسافر اور 12 عملے کے افراد سوار تھے، جن میں صرف ایک مسافر، برطانوی شہری وِشواش کمار زندہ بچا۔
بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ، پرواز کے کچھ ہی لمحوں بعد بی جے میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر جا گرا، جہاں طلبہ اور ڈاکٹرز دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے۔ پولیس حکام کے مطابق زمینی سطح پر کم از کم 24 افراد جان سے گئے۔ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 269 بتائی جا رہی ہے، جن کی شناخت کے لیے متاثرہ خاندانوں سے ڈی این اے کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔
حادثے کے بعد احمد آباد ایئرپورٹ پر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔ ایک بلیک باکس بازیاب کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال تلاش کیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی کارروائی میں انڈیا، امریکہ، برطانیہ اور بوئنگ کے ماہرین شامل ہیں۔
وزیراعظم نریندر مودی نے جائے حادثہ اور ہسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ یہ منظر دل دہلا دینے والا ہے، ہماری دعائیں متاثرین کے ساتھ ہیں۔
ایئر انڈیا کے مالک ٹاٹا گروپ نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے معاوضہ اور زخمیوں کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بوئنگ کے سی ای او نے پیرس ایئر شو میں شرکت منسوخ کر دی ہے جبکہ کمپنی کے حصص میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تیکنیکی تجزیہ جاری ہے، جن میں انجن یا پرواز کے آغاز میں ممکنہ ناکامی شامل ہے۔