
اسرائیل نے ایران کے مختلف جوہری، عسکری اور رہائشی مراکز پر شدید حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری، پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی، اور 6 معروف جوہری سائنسدان جان سے گئے ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اپنی خونریز تقدیر خود لکھ دی ہے۔
ایران کے مطابق 5 شہری بھی جان سے گئے جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ حملوں میں نطنز، تہران، اصفہان، کرمانشاہ، اور ہمدان سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں 200 سے زائد لڑاکا طیارے اور خفیہ ایجنسی موساد کی کمانڈو فورسز شریک تھیں۔
موساد نے ایران میں میزائل دفاعی نظام کے قریب خفیہ طور پر گائیڈنس آلات نصب کیے تھے جن کی مدد سے ٹارگٹڈ حملے کیے گئے۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اپنی خونریز تقدیر خود لکھ دی ہے۔ صہیونی حکومت نے اپنی خبیث اور خونی ہاتھوں سے ہمارے وطن میں جو جرم کیا ہے، وہ ناقابلِ معافی ہے۔ رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اس نے اپنی گھناؤنی فطرت ظاہر کی ہے۔ اس جرم کا سخت جواب دیا جائے گا۔
حملے میں جان سے جانے والے تمام سائنسدانوں نے یورینیم افزودگی اور نطنز کے مرکزی نیوکلیئر پروگرام میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔
ایران کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ یہ حملے امریکا کی براہِ راست منظوری کے بغیر ممکن نہیں تھے، اس لیے امریکی حکومت بھی نتائج کی ذمہ دار ہو گی۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ ہم اسرائیل کے ان حملوں میں شامل نہیں تھے، ایران کو چاہیے کہ وہ امریکی مفادات یا اڈوں کو نشانہ نہ بنائے۔
عالمی جوہری تنظیم آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ نطنز کی جوہری تنصیب پر حملہ ہوا ہے، تاہم تابکاری میں اضافہ رپورٹ نہیں ہوا۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے لیے کی گئی ہے اورجب تک ضرورت پڑے گی، کارروائیاں جاری رہیں گی۔
اسرائیل اور ایران دونوں نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، خطے میں ہوائی آپریشن معطل ہے، تیل کی قیمتیں 8 فیصد بڑھ گئی ہیں اور اسٹاک مارکیٹس مندی کا شکار ہیں۔