
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، مہنگائی پر قابو پایا جا چکا ہے اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 2023 میں جی ڈی پی گروتھ منفی رہی، تاہم 2024 میں یہ 2.5 فیصد اور 2025 میں 2.7 فیصد رہی۔ مہنگائی کی شرح جو 29 فیصد سے زائد ہو چکی تھی، اب کم ہو کر 4.6 فیصد پر آگئی ہے۔ حکومت نے افراط زر پر قابو پانے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی، اور پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آگیا۔
وزیر خزانہ کے مطابق، معیشت کی بحالی عالمی تناظر میں دیکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے سٹرکچرل ریفارمز ناگزیر ہیں، جن پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ جون 2024 تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جو 16 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 68 فیصد سے کم ہو کر 65 فیصد ہو گئی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے تحت ڈھانچہ جاتی اصلاحات ممکن ہوئیں۔ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 5 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اور انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 37 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔ آئی ٹی برآمدات اور فری لانسرز کی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال ترسیلات زر 37 سے 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے سے سٹاک مارکیٹ میں 52.6 فیصد اضافہ ہوا۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ قرضوں کی ادائیگی میں 800 ارب روپے بچائے گئے، پنشن اصلاحات میں پیش رفت ہوئی، اور 43 وزارتوں و 400 اداروں کی رائٹ سائزنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صنعتی شعبے میں 6 فیصد، خدمات میں 2 فیصد اور تعمیرات میں 3 فیصد تک اضافہ بتایا۔ جاری کھاتوں کا خسارہ ختم ہو کر اب سرپلس میں ہے اور اکاؤنٹس 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بی آئی ایس پی کی رقم بڑھا کر 593 ارب روپے تک پہنچانے کا اعلان کیا اور بتایا کہ کفالت پروگرام کے تحت 99 لاکھ خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ معیشت کا حجم 411 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، اور فی کس آمدنی 162 ڈالر کے اضافے سے 1824 ڈالر ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال میں اقتصادی شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد تھا جو 2.7 فیصد رہا۔ زرعی شعبے کی کارکردگی ہدف سے کم رہی اور کپاس کی پیداوار میں 30.7 فیصد کمی آئی۔ البتہ پھلوں و سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا۔ پیٹرولیم اور فارماسیوٹیکل مصنوعات کی نمو مثبت رہی، جبکہ کیمیکل اور کان کنی میں کمی دیکھی گئی۔
ایف بی آر محصولات میں جولائی تا اپریل 26.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم مقررہ ہدف حاصل ہونے کا امکان کم ہے۔ اس کے باوجود، معیشت کے مختلف شعبوں میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں اور حکومت آئندہ مالی سال کو معاشی پیش رفت کا سال قرار دے رہی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 46 ہزار 604 میگاواٹ ہے ، صنعتی شعبے کی ترقی 4.8 فیصد، گاڑیوں کی صنعت میں 48 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، سیلاب نے 3.3 کروڑ افراد کو متاثر کیا اور 15 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، پاکستان میں سال 2024 کا اوسط درجہ حرارت 23.52 ڈگری رہا، 31 فیصد زائد بارشیں ہوئیں۔
این ایف سی ایوارڈ پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اگست میں اجلاس ہوگا اور آبادی کے نئے فارمولے پر غور کیا جائے گا تاکہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق وسائل کی تقسیم ممکن ہو سکے۔