پاکستانتازہ ترین
ٹرنڈنگ

پاک افغان سفارتی پیش رفت: دونوں ممالک کا سفیروں کی تعیناتی کا اعلان

کابل اور اسلام آباد تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے امیر متقی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے

پاکستان اور افغانستان نے باہمی سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں کا واضح اظہار ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے جمعہ 30 مئی کو اعلان کیا کہ کابل میں پاکستان کے ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی کو سفیر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ 19 اپریل کو کابل کے کامیاب دورے کے بعد پاک-افغان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس پیش رفت کے جواب میں افغانستان کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلام آباد کے لیے اپنے سفیر کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق طالبان حکومت کے ممکنہ سفیر مولوی سردار احمد شکیب ہوں گے، جو پہلے ہی اسلام آباد میں افغان مشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی آئندہ دنوں میں پاکستان کا تین روزہ دورہ بھی کریں گے۔ افغان میڈیا کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی سرکاری دعوت پر کیا جا رہا ہے اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان وسیع دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں اقتصادی تعاون، امن و استحکام اور مہاجرین کے مسائل سر فہرست ہوں گے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل میں کسی نمائندے کو سفیر کا درجہ دیا ہے، جو اسلام آباد کی جانب سے افغان طالبان حکومت کے ساتھ عملی سفارتی روابط بڑھانے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ دونوں ممالک تعلقات میں بہتری کے لیے سنجیدہ ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں سرحدی کشیدگی، افغان مہاجرین کی ملک بدری اور سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلقات تناؤ کا شکار رہے، تاہم موجودہ اقدامات کو تعلقات کی بحالی کی طرف اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button