
وزیراعظم اپنے دورے کے دوران ایران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے اہم ملاقات کی، جس میں انڈیا کے ساتھ حالیہ تنازع، فلسطین کی صورتحال، ایران پاکستان تعلقات اور علاقائی استحکام جیسے اہم معاملات زیر بحث آئے۔ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود تھا۔
وزیراعظم کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم لیڈر سے اظہارِ عقیدت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت پوری مسلم دنیا میں رہنمائی کا نشان ہے، اور امت مسلمہ ان سے رہنمائی اور سرپرستی کی امید رکھتی ہے۔ وزیراعظم نے انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی، انڈیا کی بالادستی پسندانہ سوچ، اور جارحانہ اقدامات سے سپریم لیڈر کو آگاہ کیا اور ایران کی قیادت کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے تاکہ ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے پاک-ایران تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی حکومت مشکل جغرافیائی سیاسی حالات میں ایران کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی امریکی جوہری مذاکرات میں دور اندیشی کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی تعمیری معاہدہ طے پائے گا جو خطے میں امن و استحکام کا باعث بنے گا۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت خطے میں امن اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کے لیے دعا کی۔
وزیراعظم نے شاعر مشرق علامہ اقبال سے سپریم لیڈر کی محبت کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔ دونوں ممالک مشکل حالات میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی، جسے پاکستان نے قبول کیا مگر انڈیا نے مسترد کر دیا۔
وزیراعظم نے غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران کی حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
ایک الگ پریس کانفرنس میں ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران کو ہم اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بعد از ملاقات اپنے پیغام میں مسئلہ فلسطین پر پاکستان کے مؤقف کی بھرپور تعریف کی اور کہا کہ پاکستان نے صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے عالمی دباؤ کو کبھی قبول نہیں کیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف ترکیہ کے بعد ایران، آذربائیجان اور تاجکستان کا دورہ بھی کریں گے، جہاں وہ باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی معاملات پر وسیع تبادلہ خیال کریں گے۔ تاجکستان میں وہ 29 اور 30 مئی کو ہونے والی عالمی گلیشیئر کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔