
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بیرونِ ملک سے ڈی پورٹ ہو کر واپس آنے والے افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی، ان کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں گے، اور انہیں پانچ سال کے لیے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔
اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے اور ڈی جی پاسپورٹ نے شرکت کی۔ یہ اقدامات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کے تدارک کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ڈی پورٹ ہونے والے افراد ملک کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں، اور آئندہ ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ان کے مطابق، اس مسئلے پر سنجیدہ اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
وزیر داخلہ کی ہدایت پر پاسپورٹ قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کے لیے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو جلد اپنی سفارشات پیش کرے گی۔