
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وقف ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا میں تاریخی مسلم املاک کی نگرانی اور نظم و نسق میں تبدیلیوں پر مبنی بِل گذشتہ ہفتے انڈین پارلیمنٹ میں منظور ہوا تھا اور گذشتہ رات صدر دروپدی مرمو نے بھی اس پر دستخط کر دیے۔
ترمیمی قانون کے تحت، 14 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی، مسلمانوں کی وقف شدہ تاریخی املاک کی انتظامیہ میں، روایات کے برعکس ہندوؤں کو بھی شامل کیا جائے گا اور فیصلہ سازی میں حکومت کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔
وزیراعظم نریندر مودی کی بی جے پی اور اتحادی پارٹیوں کی طرف سے اس متنازعہ قانون کے خلاف، انڈیا کی سب سے بڑی مسلم نمائندہ تنظیم، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ’وقف بچاؤ، آئین بچاؤ‘ کے نام سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر کیرلا کی جمیعت علماء نے وقف ترمیمی قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔