پاکستانتازہ ترینتعلیم
ٹرنڈنگ

پی ایم ڈی سی نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کے داخلے کا معیار کم کر دیا

اہلیت میں کمی کا فیصلہ صرف اس سیشن کے لیے ہے تاکہ نجی کالجوں میں خالی نشستیں ضائع نہ ہوں۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے تعلیمی نشستوں کے خالی رہنے کے مسئلے کے پیش نظر نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے کم سے کم نمبر کی حد میں کمی کر دی ہے۔ اب ایم بی بی ایس کے امیدوار 50 فیصد اور بی ڈی ایس کے امیدوار 45 فیصد نمبر حاصل کرکے نجی اداروں میں داخلے کے اہل ہوں گے۔

یہ فیصلہ 13 مئی 2025 کو پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے تحت کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ رعایت صرف 2024-25 کے تعلیمی سال کے لیے دی جا رہی ہے تاکہ دستیاب نشستوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

پی ایم ڈی سی کی رجسٹرار ڈاکٹر شائستہ فیصل کے مطابق مختلف نجی اداروں کی جانب سے نشستوں کے خالی رہنے کی اطلاع کے بعد کونسل نے یہ اقدام کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایم بی بی ایس کے لیے 55 فیصد اور بی ڈی ایس کے لیے 50 فیصد نمبر درکار تھے، جو اب عارضی طور پر کم کیے گئے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق، داخلہ دینے والی جامعات کو پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کی شق 17 (5) کے تحت اپنے متعلقہ صوبوں میں داخلے یقینی بنانے ہوں گے، بصورت دیگر داخلے کالعدم تصور کیے جائیں گے۔

تاہم، بعض ماہرینِ تعلیم نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے میڈیکل تعلیم کے معیار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر میڈیکل شعبے میں سخت مقابلہ ہوتا ہے، اور کمزور تعلیمی بنیاد رکھنے والے طلبہ کو داخلہ دینا نہ صرف تعلیمی معیار بلکہ مریضوں کی صحت کے لیے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اور ماہر نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کو میرٹ کو یکساں بنانے کے لیے متعارف کیا گیا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے معیار میں مسلسل کمی کی گئی، جو کہ نجی کالجوں کے دباؤ کا نتیجہ لگتی ہے۔

کئی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فیسوں میں کمی یا طلبہ کے لیے قرضہ جات کی سہولت دی جاتی تو مستحق اور باصلاحیت طلبہ نجی اداروں میں داخلہ حاصل کر سکتے تھے، بجائے اس کے کہ معیار میں نرمی کی جائے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button