
برطانیہ، کینیڈا اور فرانس نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے غزہ میں اپنی تازہ فوجی کارروائیاں نہ روکیں اور انسانی امداد پر عائد پابندیاں ختم نہ کیں تو ان ممالک کو مزید ٹھوس اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑے گا، جن میں پابندیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پورے غزہ پر کنٹرول کا عندیہ دیا ہے اور اسرائیلی فوج نے غزہ کے دوسرے بڑے شہر خان یونس کا خالی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
تینوں ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عام شہریوں کو انسانی امداد سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔
اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غزہ فوجی کارروائیاں بند کرے اور فوری طور پرانسانی امداد داخل کرنے کی اجازت دے۔ بیان میں حماس سے مغویوں کی رہائی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
مشترکہ بیان میں امریکہ، قطر اور مصر کی طرف سے جاری جنگ بندی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعلان بھی کیا گیا۔
نیتن یاہو نے جواباً ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا دفاع جائز اور ضروری ہے، اور کہا ہے کہ وہ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کی غیر عسکری حیثیت یقینی بنائی جائے گی۔
دوسری جانب حماس نے مغربی رہنماؤں کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے بین الاقوامی قانون کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری اور زمینی کارروائیوں سے اب تک 53,000 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے اسرائیل نے غزہ میں امداد کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے شدید قحط کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
اسرائیل نے گزشتہ روز بھی متعدد فضائی حملے کیے ہیں جن میں ہسپتالوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ غزہ کے حکام نے اسرائیل کے حالیہ اقدامات کو منظم نسل کشی کی پالیسی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری طور پر عملی اقدامات کی درخواست کی ہے۔