
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ایک ہزار فلسطینیوں کو رواں سال حج کی ادائیگی کے لیے ذاتی خرچ پر میزبانی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں شہداء، قیدیوں اور زخمیوں کے اہل خانہ شامل ہوں گے۔
یہ میزبانی خادم حرمین شریفین کے مہمانوں کے لیے حج، عمرہ اور زیارت پروگرام کے تحت کی جا رہی ہے، جس کی نگرانی وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کر رہی ہے۔
وزیر اسلامی امور شیخ ڈاکٹر عبداللطیف نے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو مملکت کی فلسطینی عوام کے ساتھ گہری وابستگی اور اسلامی اخوت کی عکاسی قرار دیا۔
وزارت نے فوری طور پر ایک جامع منصوبہ تیار کرتے ہوئے انتظامات کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت فلسطینی عازمین کو اپنے وطن سے روانگی سے لے کر حج کی ادائیگی اور واپسی تک مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کے قیام کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پرسکون اور باعزت بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
خادم حرمین شریفین مہمانانِ حج پروگرام کا آغاز 1417 ہجری میں ہوا تھا، اور اب تک دنیا کے مختلف ممالک سے 64 ہزار سے زائد عازمین اس پروگرام کے تحت حج کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطین اسرائیل تنازع اپنے سنگین ترین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، اور ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی جبکہ لاکھوں قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔