پاکستانتازہ ترینلائف سٹائل

پاکستان میں تلور معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار: ڈبلیو ڈبلیو ایف

پاکستان میں تلور کا غیر قانونی شکار اس مفروضے کے تحت کیا جاتا ہے کہ یہ جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔

پاکستان میں تلور کی آبادی میں مسلسل اور تشویشناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے، اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے مطابق بھارتی نسل کے تلور کی تعداد صرف 35 رہ گئی ہے۔

یہ بات پیر کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک سیمینار میں کہی گئی، جو WWF کے زیر اہتمام تلور کے تحفظ کے حوالے سے منعقد ہوا۔

تلور کے غیر قانونی شکار کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، بالخصوص خلیجی ممالک سے آنے والے شکاری اسے اس مفروضے کے تحت شکار کرتے ہیں کہ اس کا گوشت جنسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر سائنسی رجحان تلور کی آبادی میں تیزی سے کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف اور دیگر ماحولیاتی اداروں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تلور، کالا ہرن اور سندھ کی ڈالفن سمیت ناپید ہوتی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مؤثر اور جامع پالیسی فوری طور پر نافذ کی جائے۔

عالمی سطح پر متعدد ممالک تلور کے تحفظ کے لیے فعال اقدامات کر رہے ہیں، لیکن پاکستان میں تاحال حکومتی سطح پر کوئی مؤثر حکمتِ عملی یا قانون سازی سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے شکار میں اضافہ ہو رہا ہے اور پرندے کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تلور کی نسل کو معدومی سے بچانے کے لیے پاکستان کو اندرونی طور پر قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروانا ہوگا، جبکہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بھی ناگزیر ہے تاکہ اس نایاب اور قیمتی پرندے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button