
پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے حال ہی میں پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025 کی منظوری دے دی جس کا مقصد صوبے میں تیزاب گردی کی وارداتوں کی روک تھام اور تیزاب کی غیر قانونی فروخت پر قابو پانا ہے۔
بل کے تحت بغیر لائسنس تیزاب فروخت کرنا قابلِ سزا جرم ہوگا، جس پر تین سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ تیزاب فروخت کرنے والوں کے لیے لائسنس کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔
قانون میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کسی فروش کی لاپروائی سے تیزاب گردی کا واقعہ پیش آئے تو وہ متاثرہ فرد کو معاوضہ ادا کرنے کا پابند ہوگا۔
مزید برآں، تیزاب فروخت کرنے والوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے کاروباری ریکارڈ محفوظ رکھیں اور ہر بوتل پر لائسنس نمبر، مقدار، تاریخِ تیاری اور میعاد کی معلومات واضح طور پر درج کریں۔
بل کے نفاذ اور نگرانی کی ذمہ داری خواتین تحفظ اتھارٹی کو دی گئی ہے، جو متاثرین کو قانونی معاونت اور بحالی کی سہولیات فراہم کرے گی۔
یہ بل جلد پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی منظوری کے مراحل طے ہوں گے۔