
نیپال میں واقع دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کنچن جنگا (8,586 میٹر) کو بغیر اضافی آکسیجن سر کر کے پاکستانی کوہ پیما سرباز خان نے ایک اور نمایاں سنگ میل عبور کر لیا۔
یہ کارنامہ 18 مئی 2025 کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بج کر پندرہ منٹ پر مکمل ہوا۔ اس کامیابی کے ساتھ سرباز خان دنیا کے ان چند ممتاز کوہ پیماؤں میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے آکسیجن کے بغیر دنیا کی تمام 14 آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں سر کی ہیں۔ وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے پاکستانی ہیں۔
سرباز خان کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے علی آباد ہنزہ سے ہے۔ انہوں نے کوہ پیمائی کا آغاز 2016 میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ انہوں نے 2017 میں نانگا پربت، 2018 میں کے ٹو، اور 2019 میں لھوٹسے اور براؤڈ پیک سمیت دیگر بلند ترین چوٹیاں سر کیں، وہ بھی بغیر اضافی آکسیجن کے۔
ان کی حالیہ کامیابی انتہائی مشکل کوہ پیمائی تکنیک "الپائن اسٹائل” میں حاصل کی گئی، جس میں نہ تو فکسڈ رسیوں کا سہارا لیا جاتا ہے، نہ اضافی آکسیجن، اور نہ ہی شیرا یا کیمپنگ سہولیات۔ یہ طرز دنیا بھر میں کوہ پیمائی کی سب سے چیلنجنگ شکل سمجھی جاتی ہے۔
سرباز خان کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستانی کوہ پیمائی کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں ایک اہم سنگ میل بھی ثابت ہوئی ہے۔