پاکستانتازہ ترین

برطانوی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان، خطے میں پائیدار امن پر زور

برطانوی وزیر خارجہ نے جنوبی ایشیا میں امن، افغان مہاجرین کی منتقلی اور اپ سکیل پروگرام میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں حالیہ پاک انڈیا کشیدگی کے بعد جنگ بندی کو پائیدار امن میں تبدیل کرنے، اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان اور امریکہ کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔

یہ بیان برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی، سیکیورٹی اور ترقیاتی تعاون کو مضبوط بنانے کے تناظر میں ہوا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ جنگ بندی دیرپا ہو، بات چیت کا سلسلہ جاری رہے اور پاکستان و انڈیا کے درمیان اعتماد بحال کیا جا سکے تاکہ خطے میں امن و استحکام ممکن ہو۔

پاکستان اور انڈیا نے 10 مئی کو امریکی ثالثی کے نتیجے میں جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ یہ معاہدہ انڈیہ کے زیر قبضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا، جس کا الزام انڈیا نے پاکستان پر عائد کیا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

چار دن تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں ڈرون، میزائل اور توپ خانے کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں جانب تقریباً 70 افراد مارے گئے جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی تھی۔ اس کشیدہ صورت حال نے عالمی سطح پر ایک وسیع جنگ کے خدشات کو جنم دیا، جس پر برطانیہ سمیت کئی ممالک نے فریقین پر تحمل اختیار کرنے پر زور دیا۔

انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اعلان پر برطانیہ نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں۔ مذکورہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں طے پایا تھا اور یہ پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے 80 فیصد پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ اور دیگر عالمی قوتوں نے بھی حالیہ کشیدگی میں کمی لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، تاہم سفارتی ذرائع اور ماہرین موجودہ جنگ بندی کو نازک اور غیرمستحکم قرار دے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان-برطانیہ سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی اور اپسکیل پروگرام کے تحت جاری مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی گئی۔

محسن نقوی نے بتایا کہ اپ سکیل پروگرام کے تحت منظم جرائم کی روک تھام، غیر قانونی امیگریشن، آن لائن ہراسانی، مجرمانہ ریکارڈ کے تبادلے، منشیات کی سمگلنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نیشنل کرائم ایجنسی کے تعاون سے اے این ایف نے حال ہی میں 4.3 ٹن افیون ضبط کی جس کی مالیت 22 ملین پاؤنڈ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے افغان مہاجرین کی برطانیہ منتقلی میں پاکستان کے تعاون کو سراہا اور اپ سکیل پروگرام کے تسلسل پر اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button