اوورسیزتازہ ترینروزگار

سال کی پہلی سہ ماہی میں 1 لاکھ 72 ہزار پاکستانی روزگار کی تلاش میں بیرون ملک روانہ

زیادہ تر محنت کشوں نے سعودی عرب، قطر اور عمان کا رخ کیا: بیورو آف امیگریشن

بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد پاکستانی شہری روزگار کی تلاش میں بیرون ملک روانہ ہوئے، جن میں اکثریت مشرقِ وسطیٰ کا رخ کرنے والوں کی تھی۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب پاکستانیوں کی اولین ترجیح رہا، جہاں 1 لاکھ 21 ہزار سے زائد محنت کش، ڈرائیور اور دیگر پیشہ ور افراد گئے۔ قطر میں تقریباً 13 ہزار، عمان میں 83 سو سے زائد اور متحدہ عرب امارات میں لگ بھگ 69 سو پاکستانیوں نے ملازمت کے لیے ہجرت کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ خلیجی ممالک اب بھی پاکستانی افرادی قوت کے لیے مرکزی مراکز ہیں، تاہم ہزاروں افراد نے یورپ، ایشیا اور امریکہ کا بھی رخ کیا۔ ان میں برطانیہ، ترکی، یونان، چین اور جرمنی شامل ہیں، جہاں مختلف شعبوں میں مہارت رکھنے والے پاکستانیوں نے روزگار کے مواقع تلاش کیے۔

اعداد و شمار کے مطابق، بیرون ملک جانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد غیر ہنر مند مزدوروں کی رہی، جن کی تعداد 99 ہزار 139 ریکارڈ کی گئی۔ 38 ہزار 274 پاکستانی بطور ڈرائیور رجسٹر ہوئے، جب کہ 8 ہزار 521 افراد ٹیکنیکل شعبوں، جیسے الیکٹریشن، مستری اور ویلڈنگ سے وابستہ تھے۔ اسی طرح، ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر سے تعلق رکھنے والے 1 ہزار 675 ڈاکٹرز، نرسز اور اساتذہ بھی شامل تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ رجحان صرف غیر ہنر مند نہیں بلکہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی بیرون ملک ہجرت کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے تشویش ناک ہے۔ ان کے مطابق، اگر یہ رجحان برقرار رہا تو مقامی سطح پر مہارتوں کی کمی سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ افرادی قوت ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی معیشت میں مثبت کردار ادا کرتی ہے، تاہم طویل المدتی بنیادوں پر اس مسلسل انخلا کے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھائے بلکہ ہنر مند افرادی قوت کو ملک میں روکنے کے لیے مؤثر پالیسیاں بھی وضع کرے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button