
یورپی یونین میں 2024 کے دوران روزگار کی شرح بڑھ کر 75.8 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2030 کے مقررہ ہدف 78 فیصد کے قریب ہے۔ یوروسٹیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 20 سے 64 سال کی عمر کے تقریباً 19 کروڑ 76 لاکھ یورپی افراد نے گزشتہ سال ملازمت کی، جو 2023 کے مقابلے میں 0.5 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
27 رکن ممالک میں سے 15 نے 78 فیصد کی حد عبور کر لی ہے، جبکہ نو ممالک کی شرح 70 سے 78 فیصد کے درمیان رہی۔ صرف تین ممالک – اٹلی، یونان اور رومانیہ 70 فیصد سے کم سطح پر ہیں۔
نیدرلینڈز 83.5 فیصد کے ساتھ سرفہرست ہے، اس کے بعد مالٹا 83.0 فیصد، چیک جمہوریہ 82.3 فیصد، سویڈن 81.9 فیصد، اسٹونیا 81.8 فیصد، جرمنی 81.3 فیصد اور ہنگری 81.1 فیصد ہیں۔ تاہم، چار ممالک اسٹونیا، لٹویا، سویڈن اور لکسمبرگ میں روزگار کی شرح میں کمی نوٹ کی گئی۔
یورپی یونین کے ایکشن پلان برائے سماجی حقوق کے تحت 2030 تک صنفی روزگار کے فرق کو کم کرنا اہم ہدف قرار دیا گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، مردوں میں روزگار کی شرح 80.8 فیصد جبکہ خواتین میں 70.8 فیصد ہے، جو ایک نمایاں فرق ظاہر کرتا ہے۔
صنفی فرق مختلف ممالک میں مختلف ہے۔ فن لینڈ میں یہ فرق صرف 0.7 فیصد ہے، جبکہ بالٹک ممالک – لتھوانیا، اسٹونیا اور لٹویا – میں یہ تقریباً 3 فیصد ہے۔ دوسری جانب، اٹلی اور یونان میں فرق سب سے زیادہ ہے، بالترتیب 19.3 اور 18.8 فیصد۔ اٹلی میں 20 سے 64 سال کی صرف 60 فیصد خواتین کام کر رہی ہیں، جبکہ مردوں میں یہ شرح 75 فیصد سے زائد ہے۔
یوروسٹیٹ نے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے روزگار سے متعلق ایک اور اہم پہلو اجاگر کیا ہے۔ 2024 میں، 20.5 فیصد مرد اور 22 فیصد خواتین ایسی ملازمتوں میں مصروف رہے جن کے لیے ان کی اعلیٰ تعلیم ضروری نہیں تھی۔ اسپین 35 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ لکسمبرگ 4.7 فیصد کے ساتھ سب سے نیچے تھا۔
اگرچہ اٹلی کا مجموعی تناسب یورپی اوسط کے قریب ہے، تاہم صنفی فرق قابلِ توجہ ہے۔ وہاں خواتین کی زیادہ تعلیم یافتہ ہونے کی شرح مردوں کے مقابلے میں 7.7 فیصد زیادہ ہے، جو یورپی یونین میں سب سے بڑا فرق ہے۔