تازہ ترینصحت
ٹرنڈنگ

غذائی قلت سے پیدا ہونے والی ذیابیطس کی نئی قسم ٹائپ 5 قرار

دنیا بھر میں 2 کروڑ 50 لاکھ افراد اس بیماری سے متاثر ہیں۔

بین الاقوامی فیڈریشن برائے ذیابیطس نے ورلڈ ذیابیطس کانگریس 2025 کے دوران، جو رواں ماہ بنکاک، تھائی لینڈ میں منعقد ہوئی، غذائی قلت سے جڑی ذیابیطس کی ایک نئی قسم کو باقاعدہ طور پر ”ٹائپ 5“ قرار دے دیا۔ یہ بیماری بنیادی طور پر ترقی پذیر ممالک کے کم آمدنی والے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹائپ 5 ذیابیطس میں مریض کا جسم انسولین کی مناسب پیداوار میں ناکام رہتا ہے، اگرچہ یہ عام اقسام، جیسے ٹائپ 1 اور ٹائپ 2، سے مختلف ہے۔ اس مرض کا تعلق بنیادی طور پر کم خوراکی اور دبلا پن سے جوڑا گیا ہے

عالمی سطح پر اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بتائی گئی ہے۔ طویل عرصے سے اس بیماری کی شناخت اور درجہ بندی پر سائنسی حلقوں میں بحث جاری تھی، تاہم اب اس کی باضابطہ توثیق ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن میں طب کی پروفیسر میرڈتھ ہاکنز نے کہا کہ غذائیت سے جڑی یہ ذیابیطس تاریخی طور پر نہ صرف کم تشخیص کی گئی بلکہ اسے کم سمجھا گیا۔

ماہرین کے مطابق اس پیشرفت سے دنیا بھر میں کم آمدنی والے طبقات کے لیے صحت کی بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے گی۔ اب جب کہ ٹائپ 5 کو عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا ہے، ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ اس کی تشخیص، علاج اور آگاہی کے لیے تحقیق اور وسائل میں اضافہ ہوگا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ آرٹیکلز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button